BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 March, 2004, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کربلا والوں کی یاد میں: لاہور کا محرم

کربلا والوں کی یاد میں: لاہور کا محرم
آج شب عاشور ہے اور کربلا کے شہدا کی یاد میں ملک بھر میں عزاداری کی مجلسیں اور جلوس اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔

لاہور میں اسلام پورہ کے علاقہ میں درجنوں چھوٹے بڑے قرینے سے سجائے گئے علم اٹھاۓ اور گریہ و زاری اور سینہ کوبی کرتے عزاداروں نے نویں محرم کی صبح ہی سے ماتمی جلوس نکالے ہوۓ ہیں۔

پرانے شہر میں اندرون موچی دروازہ کی نثار حویلی ، جہاں قزلباش خاندان نے اٹھارہ سو ستاون میں محرم کی مجالس کرنا شروع کیں ، سے لے کر ماڈل ٹاؤں کی جامعہ المنتظر اور اس سے آگے راۓ ونڈ روڈ تک پھیلی نئی آبادیوں میں قائم عزا خانوں میں علم اور ماتمی جلوس نکالے جارہے ہیں۔

شہر کے طول وعرض میں پانچ سو سے زیادہ مقامات پر مجالس امام حسین کا سلسلہ جاری ہے جو محرم کی پہلی سے شروع ہوا اور دسویں کی شام غریباں تک جاری رہے گا۔

لاہور میں کربلا گامے شاہ محرم کی مجالس کا مرکزی نکتہ ہے۔ وہاں صبح و شام مجالس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

علی الصبح نکلسن روڈ پر ڈاکٹر ریاض کی امام بارگاہ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ مبارک بیگم کی حویلی، امام بارگاہ نواب صاحب اور ایسی ہی درجنوں قدیم بارگاہوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں نۓ عزا خانوں میں رات گۓ تک چلتا رہتا ہے۔

ماتم و گریہ
لاہور میں نویں محرم کی صبح ماتمی جلوس اپنے روایتی راستے پر روانہ ہوتے ہیں

ذاکروں نے امام حسین کے ذکر کے بیان کا ایک منفرد طریقہ ایجاد کیا ہے جو پنجاب سے مخصوص ہے۔ کربلا گامے شاہ میں مجلس پڑھنے والے شجر حسین شجر انہیں ذاکروں میں سے ہیں جنھیں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

کربلا میں اما م حسین اور ان کے رفقا کی شہادت کی تفصیلات اور کرداروں کے جذبات بتانے کے لیے ذاکر کے الفاظ کا چناؤ اور زیر وبم ، ہاتھوں کے اشارے اور چند ساتھیوں کا کورس کی شکل میں وقفے وقفے سے اس کے ساتھ نظم کی صورت میں پڑھنا ایک غم ناک کردینے والا ایسا سماں باندھ دیتا ہے جو کربلا کے شہیدوں کو پرسہ دینے والوں کی بے اختیار گریہ و زاری پر منتج ہوتا ہے۔

لاہو رمیں کربلا گامے شاہ کے ذاکر شجر حسین شجر تو پنجاب کی مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتے ہی ہیں لیکن اس شہر نے واقعات کربلا کی یاد منانے کے لیے جید علما و فضلا کو بھی مجالس کےمنبر پر دیکھا ہے۔ تاہم لاہور کے عزا خانوں میں اب باکمال خطیبوں اور صاحب طرز سوز وسلام پڑھنے والوں کی قدرے کمی ہے۔

علم الکلام کو عام ادمیوں تک پہنچانے والے حافظ کفایت حسین اور لکھنؤ کے علامہ نقی عرف نقن میاں اب مرحوم ہوچکے۔ خوش الحان قرات کرنے والے حافظ ذوالفقار اور سادہ اور دلآویز گفتگو کرنے والے اظہر حسن زیدی بھی نہیں ہیں۔ سائیں اختر اور حامد بیلا اور استاد چھوٹے غلام علی اور فیروز کربلائی جیسے سوز وسلام پڑھنے والے منظر سے چلے گۓ۔

لاہور کے عزا خانوں میں اب جو رونق ہے وہ سرائیکی اور پنجابی میں ذاکری کرنے والوں کے دم سے ہے۔ خطابت کے حسن کا زمانہ رخصت ہوتا نظر آتا ہے۔

اب محرم کی تقریبات نے ایک اور انداز اختیا رکیا ہے کہ مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پاگئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔

عزا خانوں میں محرم کی مجالس میں زیادہ تیزی تو پانچویں محرم کے بعد آجاتی ہے۔ اس روز امام حسین کے شیر خوار بیٹے علی اصغر کی شہادت کی یاد منانے کے لیے خوبصورت چھوٹے چھوٹے جھولے نکالے جاتے ہیں جن پر عزادار گریہ و زاری کرتے ہیں اور منتیں مرادیں مانتے ہیں۔ میدان کربلا میں علی اصغر کی پیاس کو ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے عقیدت مند دودھ کی سبیلیں نذرانہ کرتے ہیں۔

ساتویں محرم کو جگہ جگہ امام بارگاہوں میں پھلوں کی ٹوکریاں بانٹی جاتی ہیں اور کئی جگہوں پر ننھے منے علموں کے ساتھ مہندی کی تھالیاں سجتی ہیں۔ یہ امام حسین کی بیٹی اور ان کے نوجوان بھتیجے قاسم کی شہادت سے پہلے کیے گۓ نکاح کی یاد منانے کی رسم ہے۔

اس روز مجالس کے شروع میں بہت سے عقیدت مند اپنے ہاں بچے کی پیدائش پر مہندی کا نذرانہ لاتے ہیں اور مجالس کا اختتام حضرت قاسم کے تابوت کی شبیہ پرہوتا ہے کہ حضرت قاسم کی لاش کربلا میں ان گنت ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔

آٹھویں محرم کو حضرت امام حسین کے بھائی حضرت عباس ، جو کربلا کی جنگ میں ان کے علمدار تھے اور جن کی وفاداری ضرب المثل ہے، کی نذر تقسیم کی جاتی ہے اور مجالس کے اختتام پر علم برآمد ہوتے ہیں۔ حضرت عباس کو باب الحوائج کہا جاتا ہے جن سے منتیں مرادیں ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ وہ پوری ہو جاتی ہیں۔

نثار حویلی سے نکالا جانے والا دسویں کا ذوالجناح کا جلوس حضرت امام حسین کے گھوڑے کی شبیہ کے طور پر نکالا جاتا ہے۔ ملتان اور دوسرے شہروں میں دسویں محرم کو تعزیے نکالے جاتے ہیں لیکن لاہور میں تعزیہ کی بجاۓ ذوالجناح کا جلوس ہوتا ہے۔

نثار حویلی میں دسویں محرم کی مجلس رات گۓ ختم ہوتی ہے تو خوبصورت رنگین کپڑوں اور زیورات سے سجا ایک تندومند گھوڑا امام بارگاہ میں بیٹھے ہزاروں شرکاۓ مجلس کے درمیان نمودار ہوتا ہے لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں ، سر پیٹتے ہیں اور سینہ کوبی کرتے ہیں۔ خاک اڑائی جاتی ہے اور عرق گلاب سے معطر پانی کے چھینٹے ڈالے جاتے ہیں۔

ذوالجناح کی زیارت کے لیے ہر طرف ہر طرف ہلچل سی رہتی ہے۔ موچی دروازہ کی تنگ بل کھاتی ہوئی گلیوں میں یہ ذوالجناح ہزاروں سوگواروں میں گھرا رات بھر گلیوں اور کوچوں کا سفر قدم بقدم طے کرتا اور جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے عزا خانوں سے ہوتا ہوا صبح کے وقت نواب صاحب کی مسجد میں کچھ دیر کے لیے آرام کرے گا۔

فجر کے وقت ہی موچی دروازہ اور کوچہ نواب صاحب کی گلیاں کھچا کھچ بھری نطر آتی ہیں جہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں اور لوگ سارے شہر سے امڈے چلے آتے ہیں۔

جیسے ہی حسینیہ ہال میں فجر کی اذان شروع ہوئی ، جسے کربلا میں یوم عاشور کے روز امام حسین کے بیٹے علی اکبر کی اذان سے تشبیہ دی جاتی ہے ، ایک کہرام مچتا ہے ، ہزاروں لوگوں کی آہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں اور جہاں مؤذن آخری کلمات کہتا ہے ، ذوالجناح اپنا سفر دوبارہ شروع کرتا ہے اور زنجیر زنی کرنے والے اپنے جسم خون سے تر بتر کر لیتے ہیں۔

اب یہ ہزاروں کے ہجوم کا ایک سیل ہے جو شام تک زنجیر زنی ، ماتم، گریہ اور آہ و زاری کرتا اڑھائی سو برس سے متعین راستوں سے ہوتا بھاٹی دروازہ کے باہر کربلا گامے شاہ کے امام بارگاہ کی طرف گامزن ہے جہاں خطیب شام غریباں کی مجلس پڑھے گا اور کربلا میں امام حسین اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد ان کے حرم اور بچوں کے مصائب بیان کرے گا۔

محرم کی تقریبات کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن یہ شہر کی تہذیبی روایات میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد