محرم کے لئے حفاظتی انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال پاکستان میں ماہ محرم کے دوران فرقہ وارانہ فضا پہلے سے کچھ بہتر نظر آتی ہے لیکن حکومت بدستور محتاط ہے۔ جوں جوں دس محرم قریب آرہا ہے، شہر میں پولیس کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی ہے۔ پولیس کے ہزاروں جوان امام بارگاہوں کے باہر اور عزاداری کے جلوسوں کی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں۔ امام بارگاہوں میں داخل ہونے سے پہلے عزاداروں کو جامہ تلاشی دینی پڑتی ہے۔ پاکستان میں خاصے عرصے کے بعد اس بار محرم کے دوران ایسی فضا ہے جب فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا سلسلہ رک چکا ہے اور عام لوگ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا خطرہ اس شدت سے محسوس نہیں کررہے جو آج سے ایک دو سال پہلے تک تھا۔ تاہم حکومت نے محرم کے موقع پر خاصے کڑے حفاظتی اقدامات کیے ہیں کیونکہ دہشت گردی کی کسی کارروائی کے خطرہ کو بہرحال پوری طرح خارج از امکان نہیں سمجھا جارہا۔ اس بار محرم کے موقع پر شدت پسند سمجھے جانے والے سنی علماء کو گرفتار نہیں کیاگیا اور نہ کسی کو نظر بند کیا گیا ہے البتہ وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مطابق ملک میں پانچ سو علماء کی نقل وحرکت پر پابندی لگائی گئی ہے اور صوبوں کو ان کے نام دے دیے گۓ ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے انیس ضلعوں کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں حفاظتی اقدامات زیادہ کڑے ہیں۔ اگر امن و امان کا معاملہ درپیش ہوا تو فوج کو طلب کرلیا جائے گا۔ محرم کی تقریبات کے دوران حفاظتی اقدام کے طور پر پولیس کے عام جوانوں کے علاوہ ریزرو فورس بھی طلب کرلی گئی ہے اور رینجرز کو بھی تعیناتی کے لئے تیار رکھا گیا ہے۔ لاہور پولیس کے مطابق شہر میں فوج کی بھی سولہ سے زیادہ کمپنیاں محرم کی مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔ اس بار پولیس کے حفاظتی منصوبہ کے مطابق محرم کے موقع پر سبیلیں لگانے اور تبرک تقسیم کرنے سے پہلے سرٹیفکیٹ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ لاہور میں پولیس کے مطابق محرم کی مناسبت سے ایک سو چوًن مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے اور شہر میں پولیس کے مسلح افراد ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ہونے والی مجالس اور ساڑھے پانچ سو سے زیادہ محرم کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گۓ ہیں۔ شہر میں انتطامیہ نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے امن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کے ارکان مجالس اور جلوسوں میں موجود رہیں گے۔ راولپنڈی میں پولیس نے محرم کی مجالس کے لیے یہ پابندی لگائی ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کا استعمال اس طرح کریں کہ خطیبوں کی آواز امام بارگاہ کے باہر نہ جائے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے بڑے میو ہسپتال لاہور میں عزاداروں کے علاج معالجہ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی مقامی حالات کے مطابق حفاظتی اقدامات کیے گۓ ہیں۔ راولپنڈی اور شیخوپورہ میں آٹھ سے دس محرم تک موٹرسائیکل پر دو افراد کے بیٹھنے پرپابندی لگائی گئی ہے۔ گزشتہ برسوں کے برعکس لاہور میں دو سواریوں پر پابندی ابھی تک نہیں لگائی گئی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر فرقہ وارانہ دہشتگردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تو کسی حد تک کم ضرور ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||