کوئٹہ: جلوس پر فائرنگ‘ 42 ہلاک‘شہرمیں کرفیو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں عاشورہ کے ماتمی جلوس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے کم سے کم 42 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نےتصدیق ہے کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ سول ہسپتال میں ڈاکٹر ناصر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس انیس نعشیں پہنچی ہیں جن میں دو حملہ آوروں کی نعشیں بھی شامل ہیں۔ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں ڈاکٹر شاہد نے کہا ہے کہ ان کے پاس ہلاک شدگان کی تعداد اٹھارہ ہے۔ اس کے علاوہ جنکشن چوک میزان چوک اور عبدالستار روڈ پر مختلف مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے۔ مشتعل مظاہرین نے ایک مقامی اردو اخبار کے دفتر کو بھی آگ لگا دی جس سے دفتر کے کچھ حصہ کو نقصان پہنچا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کچھ مقامات سے فائرنگ بھی ہو رہی ہے۔ عاشورہ کا ماتمی جلوس ابھی تک راستے میں ہے۔
آج صبح ماتمی جلوس جب میزان چوک سے آگے پہنچا تو نا معلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد دو دھماکے بھی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے کہا ہے کہ واقعہ کے بعد جلوس کو روک دیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی فائرنگ کا سلسلہ اس دوران بھی جاری رہا۔ شہر میں فسادات پھوٹ پڑنے کے بعد کچھ عمارتوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے ۔مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی ہے اس کے بعد لیاقت بازار اور ملحقہ علاقوں میں آنسو گیس فائر کی گئی۔ اس واقعے کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سول ہسپتال لایا گیا۔ہسپتال میں ڈاکٹر ناصر نے بتایا ہے کہ بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا گیا ہے کچھ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تیس افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کچھ زحمیوں کو سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے جبکہ کچھ کو نجی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ کوئٹہ امن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری یونس لہڑی نے کہا ہے ایک ہلاک ہونے والے شخص کو پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا ہے ۔ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص بھی ہلاک ہوا ہے اور علاقے میں امن کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ فوج اور نیم فوجی دستوں نے علاقے کا کنٹرول سمبھال لیا ہے۔ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ جلوس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہرے میں گزارا جا رہا ہے شہر میں اس وقت امن قائم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ پولیس کے کوئٹہ شہر کے سربراہ اور فرنٹیئر کور کے کرنل شاہد نے مشترکہ اخباری پریس کانفرس میں کہا تھا کہ سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہر میں لگ بھگ ساڑھے چار ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں ایک ہزار فرنٹیئر کور کے اہلکار شامل ہیں۔ ناظم نے کہا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث پائے گئے افراد کو موقع پر گولی مارنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||