BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: جلوس پر فائرنگ:42 ہلاک

کوئٹہ میں فائرنگ
کوئٹہ میں عاشورہ کے ماتمی جلوس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے کم سے کم 42 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نےتصدیق ہے کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ سول ہسپتال میں ڈاکٹر ناصر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس انیس نعشیں پہنچی ہیں جن میں دو حملہ آوروں کی نعشیں بھی شامل ہیں۔

کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں ڈاکٹر شاہد نے کہا ہے کہ ان کے پاس ہلاک شدگان کی تعداد اٹھارہ ہے۔

اس کے علاوہ جنکشن چوک میزان چوک اور عبدالستار روڈ پر مختلف مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے۔

مشتعل مظاہرین نے ایک مقامی اردو اخبار کے دفتر کو بھی آگ لگا دی جس سے دفتر کے کچھ حصہ کو نقصان پہنچا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

کچھ مقامات سے فائرنگ بھی ہو رہی ہے۔ عاشورہ کا ماتمی جلوس ابھی تک راستے میں ہے۔

 کمبائنڈ ملٹری ہسپتال
کمبائنڈ ملٹری ہسپتال

آج صبح ماتمی جلوس جب میزان چوک سے آگے پہنچا تو نا معلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد دو دھماکے بھی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ واقعہ کے بعد جلوس کو روک دیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی فائرنگ کا سلسلہ اس دوران بھی جاری رہا۔

شہر میں فسادات پھوٹ پڑنے کے بعد کچھ عمارتوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے ۔مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی ہے اس کے بعد لیاقت بازار اور ملحقہ علاقوں میں آنسو گیس فائر کی گئی۔

اس واقعے کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سول ہسپتال لایا گیا۔ہسپتال میں ڈاکٹر ناصر نے بتایا ہے کہ بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا گیا ہے کچھ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تیس افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

News image

کچھ زحمیوں کو سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے جبکہ کچھ کو نجی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

کوئٹہ امن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری یونس لہڑی نے کہا ہے ایک ہلاک ہونے والے شخص کو پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا ہے ۔ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص بھی ہلاک ہوا ہے اور علاقے میں امن کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ فوج اور نیم فوجی دستوں نے علاقے کا کنٹرول سمبھال لیا ہے۔ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ جلوس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہرے میں گزارا جا رہا ہے شہر میں اس وقت امن قائم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

News image

یاد رہے گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ پولیس کے کوئٹہ شہر کے سربراہ اور فرنٹیئر کور کے کرنل شاہد نے مشترکہ اخباری پریس کانفرس میں کہا تھا کہ سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہر میں لگ بھگ ساڑھے چار ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں ایک ہزار فرنٹیئر کور کے اہلکار شامل ہیں۔

ناظم نے کہا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث پائے گئے افراد کو موقع پر گولی مارنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد