گوادر: حفاظتی انتظامات سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر بم دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں ناکہ بندی کر دی ہے اور علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔ دھماکے سے تین چینی ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ کارکن زخمی ہوگئے تھے۔ ایس ایچ او گوادر پولیس عبدالستار لاسی نے بتایا ہے کہ سمندر کے قریب سے ایک کھلے منہ والا سلنڈر اور فیوز ملے ہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چونکہ سمندر کی جانب علاقہ کھلا تھا اور ریموٹ کنٹرول کے لیے ایسا علاقے چاہیے ہوتا جہاں راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ لہذا ممکن ہے کہ ریموٹ کنٹرول سمندر کی جانب کسی نے استعمال کیا ہو تاہم اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔
عینی شاہدوں نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے خون اور گوشت کے ٹکڑے ملے ہیں۔ تفتیشی افسران خود کش حملے کو رد نہیں کر رہے۔ وفاقی حکومت کے احکامات پر وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف آج صبح اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے۔ انھوں نے امن و امان کے بارے میں انتظامیہ سے اجلاس کی صدارت کی اور بعد میں گورنر بلوچستان اویس احمد غنی چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کے ہمراہ گوادر چلے گئے ہیں۔ گوادر میں انھوں نے حفاظتی اقدامات کے بارے میں انتظامیہ سے بات چیت کی ہے۔ آج پیر کے روز عید میلادالنبی کے حوالے سے صوبائی انتظامیہ نے ساری توجہ کوئٹہ میں جلوسوں پر مر کوز کر رکھی تھی اور اس بارے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ فرنٹیئر کور اور فوج کو بھی چوکس رکھا گیا تھا۔ قوم پرست جماعتوں نے گوادر میں دھماکے کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کام ان قوتوں کا ہے جو اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں برادر ملک چین کے انجینیئرز اور کارکن دو منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ گوادر میں چین کے لگ بھگ ساڑھے چار سو افسر انجینیئرز اور کارکن کام کر رہے اور یہاں چین نے تقریباً ایک سو اٹھانوے ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ گوادر کے منصوبے کی کل لاگت دو سو اڑتالیس ملین امریکی ڈالر بتائی گئی ہے جس میں پاکستان کا حصہ پچاس ملین ڈالر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||