کوئٹہ: کان سے تمام لاشیں برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں دب جانے والے تمام پندرہ مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ اس سانحے کے غم میں کل بلوچستان کی تمام کانوں میں کام بند رہا۔ چیف انسپکٹر مائینز مقبول احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رات گئے تمام پندرہ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آخری آٹھ لاشیں کوئی اڑھائی ہزار فٹ گہرائی ہے ملی ہیں جبکہ سات لاشیں گزشتہ روز سے جاری کارروائی کے دوران وقتا فوقتا ملتی رہی ہیں۔ جو لاشیں جلدی مل گئی تھیں یہ مزدور راستے میں کہیں کام کر رہے تھے اور یا کام کرکے واپس آرہے تھے۔ ت مام لاشوں کو ان کے اپنے علاقوں صوبہ سرحد کے شہر سوات شانگلہ اور کوہستان روانہ کر دی گئی ہیں۔ بلوچستان کی دو سو پچاس کانوں میں کام کرنے والے بیشتر مزدوروں کا تعلق انھی شہروں سے ہے اور ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں انتہائی غربت کی وجہ سے لوگ ان کوئلے کی کانوں میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مقبول احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تمام کانیں انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ان سے تقریبا ہر وقت گیسیس خارج ہوتی رہتی ہیں جن میں میتھیں اور کاربن مانو آکسائیڈ جیسی خطرناک گیسیس بھی شامل ہیں۔ کاربن مانو آکسائید کوئلے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اگر اخراج شروع ہو جائے تو انسان کو کھڑے کھڑے مار دیتی ہے۔ ادھر کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں کان کے اندر کام کرنے کا ماحول انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے ایک طرف آکسیجن کی کمی ہے تو دوسری طرف کانوں کی حالت انتہائی مخدوش ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہاں کام کرنے والے اکثر جبری مزدور بن چکے ہیں جنہیں قرضہ دیکر خرید لیا جاتا ہے اور پھر ساری زندگی یہ مزدور قرضہ اتار نہیں سکتے۔ ایک مزدور نے کہا ہے کہ اس کا انجام یہی ہوتا ہے جو کل سنجدی کی کوئلے کی کان میں ہوا ہے یعنی موت۔ بلوچستان کی دو سو پچاس کانوں میں کام کرنے والے ساٹھ ہزار مزدوروں اور دیگر عملہ میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||