کوئٹہ دھماکہ: تین مشتبہ افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کرنے کے الزام میں پولیس نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ پرویز بھٹی نے کہا ہے کہ یہ تینوں ملزمان ماضی میں کبھی جرائم میں ملوث نہیں رہے لیکن یہ افراد موقع واردات سے گرفتار ہوئے ہیں جن سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ وہاں کیوں موجود تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں پہلی مرتبہ ریموٹ کنٹرول مواد استعمال کیا گیا ہے اور جونہی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ٹرک وہاں پہنچا تو زبردست دھماکہ ہوا۔ اس وقت پولیس ریموٹ کنٹرول تلاش کر رہی ہے اور گرفتار مشتبہ افراد سے اس بارے میں پوچھ گچھ جاری ہے۔ ڈی آئی جی نے کہا ہے کہ اب تک ٹائم بم کی مدد سے دھماکے کیے جاتے رہے اور تقریباً تمام دھماکوں میں دیسی ساخت کا مواد استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
یہ دھماکے دو سال کے وقفے کے بعد شروع ہوئے ہیں اس طرح کے دھماکے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں جن میں سے بیشتر کا نشانہ کوئٹہ میں فوجی چھاؤنیاں رہی ہیں۔ گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کے بعد نا معلوم شخص نے فون کرکے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اس دھماکے کی زمہ داری قول کرتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسی تنظیموں کے وجود کے بارے میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تاہم آئی جی نے کئی بار یہ کہا ہے کہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے بھی گزشتہ روز سیاسی مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی قوتیں جو یہاں امن نہیں چاہتیں اس قسم کے کام کر سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||