فائرنگ: گیس پائپ لائن پھٹ گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر سوئی میں نامعلوم افراد اور فرنٹیئر کور کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں گیس پائپ لائن پھٹ گئی ہے جبکہ علاقے میں سخت خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات کو نامعلوم افراد نے راکٹ فائر کئے جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں نے بھاری اسلحہ استعمال کیا ہے جس میں راکٹ کے علاوہ گولے اور چوبیس پونڈ کی بندوقیں شامل ہیں۔ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے فرنٹیئر کور کے کیمپوں کو نشانہ بنایا تھا جس سے اطلاعات کے مطابق زمزمہ گیس پائپ لائن پھٹ گئی ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ بیس انچ قطر کی پائپ لائن ہے جس سے پنجاب کو گیس مہیا کی جاتی ہے۔ تاحال یہ وا ضح نہیں ہے کہ پائپ لائن کی مرمت کرلی گئی ہے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سے پنجاب کو گیس کی سپلائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ملک کے شمالی حصوں کو دوسری گیس فیلڈز سے سپلائی جاری رہے گی۔ علاقے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر فائرنگ کی ہے جس سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے سوئی میں راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ایف سی کی فائرنگ سے دو بچے زخمی ہوگئے تھے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایف سی کے خوف کی وجہ سے لوگ زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دیتے۔ یاد رہے کہ حکومت بلوچستان میں تین نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں گوادر، سوئی اور کوہلو شامل ہیں۔ سوئی اور کوہلو میں مقامی لوگ حکومت کو چھاؤنیوں کے لیے زمین دینے کو تیار نہیں ہیں اور علاقے میں زمین مقامی قبائل کی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے حکومت سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے نئی چھاؤنیوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||