BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2003, 12:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان اسمبلی فوج پر برہم

کوئٹہ سرحد پر نیم فوجی دستے
عوام کے ساتھ سیکورٹی افواج کے غیر مناسب رویہ پر کڑی تنقید کی گئی

بلوچستان اسمبلی نے ڈیرہ بگٹی کوہلو اور گوادر میں فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھاؤنی قائم کرنے کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا اور صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

قائدِ حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی تحریک التوا کو متفقہ طور پر قرارداد کی صورت میں منظور کیا گیا ہے جس میں سینئر وزیر مولانا عبدالواسع کی ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں۔

مولانا عبدالواسع نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار، ہر داڑھی رکھنے والے اورپگڑی پہننے والے کو القاعدہ یا طالبان کا رکن سمجھتے ہیں اور مقامی لوگوں کو خواہ مخواہ تنگ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ داڑھی پگڑی اور کرتا شلوار ہمارا اسلامی تشخص ہے جسے فوجی حضرات غلط رنگ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے فوجی اہلکار امریکہ کے لیے پاکستان میں پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کرتے ہوئے عام لوگوں کو تنگ کر رہے ہیں۔

اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے تحریک کے حوالے سے بحث میں حصہ لیا اور کہا ہے صوبہ بلوچستان غریب اور پسماندہ صوبہ ہے لیکن اس کے باوجود گیس کی رائلٹی کی مد میں مرکز صوبہ بلوچستان کا کوئی چھ سو ارب روپے کا مقروض ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے ادا نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ سوئی کے مقام سے نکلنے والی گیس کی قیمت صرف بیس روپے فی مکعب فٹ رکھی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے نکلنے والی گیس کی قیمت ایک سو چوبیس روپے فی مکعب فٹ رکھی گئی ہے۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی نے کہا ہے کہ جب مرکز صوبے کو اس کے جائز حقوق نہیں دے رہا تو فوجی چھاؤنی قائم کرنے کا کیا مقصد ہے کیونکہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے ساتھ نہ تو بین الاقوامی سرحدیں لگتی ہیں اور نہ ہی یہ کوئی فوجی تجربہ گاہ ہے۔

انھوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے جس کی وہ ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

دیگر اراکین اسمبلی اور وزراء نے صوبے میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کے عوام کے ساتھ نامناسب رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں سرحدوں تک محدود کیا جائے۔

مولانا عبدالواسع نے اپنی تقریر میں قوم پرست جماعتوں کے قائدین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’صوبے میں محدود سوچ رکھی گئی ہے اس کی کئی مثالیں ہیں جیسے ستر کی دہائی میں قو م پرست قائدین نے ہی فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی تھی اسی طرح افغانستان پر طالبان کے خلاف امریکی حملے کی تائید مذہبی جماعتوں کی عداوت پر کی گئی جس کی وجہ سے آج ہماری سرحدین غیر محفوظ ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ فوجی اہلکار صوبے میں اب من مانیاں کرتے پھرتے ہیں جس کی بڑی مثال گزشتہ دنوں قلعہ سیف اللہ میں صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر سرکٹ ہاؤس اور دیگر مقامات پر قبضہ کرلیا تھا جہاں انتظامی افسر تو دور کی بات وزراء کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ کارروائی کوئی دس روز تک جاری رہی جس سے صوبائی وزیر اعلی بھی بے خبر تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد