بارودی سرنگ پھٹنے سے3 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے کوہلو میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے لیویز یعنی قبائلی پولیس کے ایک اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ سے تقریباً چار سو کلومیٹر دور مشرق میں کوہلو کے علاقے میں ایک پِک اپ جس میں تقریباً آٹھ افراد سوار تھے، بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ حکام کے مطابق یہ بارودی سرنگ نامعلوم افراد نے راستے میں بچھا رکھی تھی۔ گاڑی کے ٹکرانے سے زبردست دھماکہ ہوا جس سے لیویز کا ایک اہلکار کاکڑ خان موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا سکا اور دم توڑ گیا۔ یاد رہے کہ سوئی اور گوادر کی طرح حکومت کوہلو میں بھی فوجی چھاؤنی قائم کرنا چاہتی ہے لیکن قوم پرست عناصر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کوہلو میں راکٹ فائرنگ معمول بن چکا ہے۔ اس سے پہلے ڈیرہ بگٹی سے کچھ فاصلے پر فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس میں چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح سوئی کے علاقے میں آئے دن درجنوں راکٹ فائر کیے جاتے ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ نامعلوم افراد نے لیویز اور گیس کے کنوؤں کو نشانہ بنایا تھا۔ البتہ فائرنگ کے ان واقعات میں خاصا کم نقصان ہوا ہے۔ مئی کے مہینے میں سوئی کے علاقے میں تقریباً ایک سو تین راکٹ فائر کیے گئے تھے جن میں سے بیشتر لیویز کے کیمپ اور گیس کے کنوؤں اور پائپ لائن کے قریب گر کر پھٹ گئے جبکہ ایک دو راکٹ ہوائی اڈہ کے رن وے پر بھی گرے تھے جس سے پروازیں کچھ روز تک معطل رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||