پادری بازیاب نہیں ہو سکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پادری ولسن فضل کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔ پادری ولسن کی بازیابی کے لئے اقلیتی برادری نے ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی قائم کی ہے جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہیں اور یہ کمیٹی حکومت سے مسلسل رابطے میں رہے گی۔ اس کے علاوہ اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد منگل کی شام اقلیتی برادی کے لوگ پریس کلب کوئٹہ کے سامنے خاموش مظاہرہ کریں گے۔ پادری ولسن فضل کو اتوار کے روز نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جس کے بعد سے اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کہاں لے گئے ہیں اور کن وجوہات پر اغوا کیا گیا ہے۔ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے کہا ہے کہ پادری ولسن کو گزشتہ کچھ روز سے دھمکی آمیز خطوط مل رہے تھے جن میں یہ لکھا گیا تھا کہ وہ اپنے ادارے بند کر دیں اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ آج منگل کے روز تمام اقلیتی مذاہب کے لوگوں کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ صورتحال پر باتیں ہوئیں۔ اس اجلاس میں شریک ایک کارکن نے بتایا ہے کہ اس وقت معتبرین حالت کو قابو میں رکھنے کی تلقین کر رہے ہیں کیونکہ بعض نو جوانوں میں پادری کے اغوا پر اشتعال پایا جاتا ہے۔ تاہم اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اقلیتی افراد پر امن رہیں گے اور اپنا احتجاج برقرار رکھیں گے۔ پادری ولسن فضل پاکستان گاسپل اسمبلیز کے کوئٹہ میں پادری ہیں اور اتوار کی صبح بشیر آباد کے چرچ میں سروس کے لیے گئے۔ واپسی پر وہ گاڑی سے اتر گئے اور بیٹوں اور ڈرائیور سے کہا کہ وہ یہاں ان لوگوں سے ملنے جارہے ہیں جو عبادت کے لیے نہیں آتے تاکہ انھیں اتوار کی سروس کے لیے راغب کیا جا سکے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ انہیں دو محافظ فراہم کیے گئے تھے لیکن فادر ولسن محافظوں کو ساتھ نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فادر ولسن کے ڈرائیور سے معلوم ہوا ہے کہ گاڑی سے اترنے کے بعد انہوں نے فادر ولسن کو ایک دوسری گاڑی میں جاتے دیکھا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اترنے کے بعد وہ کس کے ساتھ اور کہاں جا رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||