BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 September, 2003, 15:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عیسائی انتہا پسندی

تحریر: شاہ زیب جیلانی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

لنچبرگ ورجنیا میں تھامس روڈ بیپٹسٹ چرچ

بی بی سی سمیت عالمی ذرائع ابلاغ آئے دن کچھ نہ کچھ ضرور رپورٹ کرتے رہتے ہیں۔خبر کم بنتی ہے تو عیسائی قدامت پسندی کے بارے میں۔ سپر پارو امریکہ میں مسیحی شدت پسند آئے دن اسقاطِ حمل کے مراکز پر حملے کرتے ہیں اور ان کے ڈاکٹروں کو قتل کیا جاتا ہے، لیکن امریکہ سے باہر انکل سام کا بااثرمیڈیا اس پر کم ہی بات کرتا ہے۔ مسیحی انتہا پسندی امریکی معاشرے میں ایسے اِکا دکّا واقعات تک ہی محدود ہوتی تو اور بات تھی۔ حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ مخالفین جارج بش کی انتظامیہ پر لگاتار قدامت پسند عیسائیوں کے زیرِ اثر ہونے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

عالمی حالات پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مذہبی جنون شاہ زیب جیلانی کی زبانیچاہے بھارت میں ہو، پاکستان یا پھرمشرقِ وسطیٰ میں، ممالک کی جغرافیائی حدود سے تجاوز کرکے دوسروں کے لئے بھی خطرہ رہا ہے۔ اسی لئے اگر دنیا کے طاقتور ترین ملک میں بھی ایسے رجحانات فروغ پا رہے ہیں تو تمام دنیا، خصوصاً مسلمانوں کیلئے، اسے سمجھنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

امریکہ کا آئین سیکیولر ہے۔ عیسائی مذہب کبھی بھی اس ملک کا سرکاری مذہب نہیں رہا۔ ہمیشہ سے یہاں ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق رہنے اور اسکی تبلیغ کی آزادی رہی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ انکل سام کے دیس میں اور اس سے باہر بھی عیسائیت کے مخلتف فرقے کچھ اس طرح تبلیغ میں مصروف رہے ہیں جیسے بڑی بڑی کمپنیاں ہر وقت نئے نئے صارفین بنانے میں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ماضی کے برعکس، بش انتظامیہ میں عیسائی قدامت پسند حلقہ حاوی نظر آتا ہے۔

ایلی پریسر: امریکہ میں مزہبی قدامت پسندی کی لہر ہے

امریکہ کی اٹھائیس کروڑ کی آبادی میں عیسائی اٹھارہ کروڑ ہیں۔ مسلمان لگ بھگ ستر لاکھ جبکہ یہودیوں کی تعداد ساٹھ لاکھ ہے۔

ملک میں عیسائی قدامت پسندی کی موجودہ لہر میں ایونجیلیکل کرسچنز سب سے آگے نظر آتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ صدر بش کے قریبی ساتھیوں میں سے اکثر کا تعلق اسی حلقے سے ہے۔ ان میں نائب صدر ڈک چینی، اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ اور وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ خاص طور پر اپنی مبینہ تنگ نظری اور کٹر عیسائی نظریات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ رہے ہیں۔

ایونجیلیکل کرسچنز، بائیبل پر حرف بہ حرف یقین رکھتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ اپنی خصوصی قربت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ناقدین ان پر اسلام کے خلاف گہرے تعصب کے الزامات لگاتے ہیں۔ ان کی قومی تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن آف ایونجیلیکلز ملک کے تینتالیس ہزار گرجا گھروں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے اور دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک بڑی لابی کے طور پر مانی جاتی ہے۔

ڈاکٹر جیری فالویل کا شمار اس قدامت پسند فرقے کے سرکردہ رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پیغمبرِ اسلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پروہ خاصی تنقید کا نشانہ بھی رہے۔

میں ان سے ملاقات کے لئے ریاست ورجنیا کے قصبے لنچبرگ میں قائم تھامس روڈ بیپٹسٹ چرچ گیا جہاں وہ گزشتہ سینتالیس برس سے پیسٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تھامس روڈ بیپٹسٹ چرچ میں تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اتوار کے اتوار وہاں ڈاکٹر فالویل کا خطبہ سننے لوگ آتے ہیں تو چرچ پوری طرح بھر جاتا ہے۔جس وقت میں وہاں پہنچا تو اتوار کی مذہبی رسومات ختم ہو رہی تھیں۔ امریکہ بھر اور دنیا کے کئی ممالک، بشمول عراق میں، ڈاکٹر فالویل کا خطبہ براہِ راست نشر کرنے کے لئے وہاں موجود آدھ درجن سے زائد کیمروں والےاپنا اپنا سامان لپیٹ رہے تھے۔

ملاقات کے آغاز میں ڈاکٹر فالویل نے پیغمبرِ اسلام کو شدت پسند کہنے سے مسلسل انکار کیا اور کہا: ’امریکی ٹی وی پر انٹرویو میں میں نے تو صرف انہیں ایک فوجی کمانڈر کہا تھا اور یہ کہا تھا کہ یسوع مسیح کے برعکس انہوں نے خود جنگوں میں حصہ لیا جن میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔‘

امریکہ میں ستّر لاکھ مسلمان ہیں

ڈاکٹر فالویل نے کہا کہ ان کے نزدیک مسلم دنیا اور امریکہ میں خلیج کی بنیادی وجہ اسرائیل ہے۔’چاہے کچھ بھی ہو امریکہ ہرقیمت پر اسرائیل کا ساتھ دے گا اور عرب دنیا کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ان کا بس چلے تو وہ اسرائیل کو صفحہء ہستی سے ہی مٹا دیں۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دے سکتے!‘

ڈاکٹر فالویل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں فساد کی جڑ حزب اللہ، حماس اور اسلامی جہاد جیسی تنظیمیں ہیں جو ان کی نظر میں دہشت گرد ہیں۔ ’میں نہیں کہتا کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔ لیکن گیارہ ستمبر کے واقعات ہوں یا امریکہ کے خلاف اس سے پہلے والی کاروائیاں، سب کے پیچھے اسلامی شدت پسندوں کا ہاتھ رہا۔ ظاہر ہے، اس کے بعد امریکہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لئے سخت سے سخت اقدامات کرنے میں حق بجانب ہے۔‘

ڈاکٹر فالویل کے ساتھ کوئی آدھ گھنٹے کی ملاقات میں مجھے امریکہ کے اسلام مخالف قدامت پسند عیسائی حلقے کا موقف سجھنے میں کچھ مدد ملی۔لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں کھٹکتی رہی کہ کیا جارج بش کے امریکہ میں یہ انتہا پسند طبقہ اور مضبوط ہوتا جائے گا؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو انکل سام اور مسلمان دنیا کے درمیان گہری خلیج کیسے کم ہوگی؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد