’عیسائی نوجوان تشدد سے ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کیتھولک کلیسا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والاایک عیسائی نوجوان ایک مدرسے میں مذہبی تشدد سے ہلاک ہوا ہے ۔ منگل کی شام جاری ہونے والے اس بیان پر بشپ لارنس الڈینا اور پیٹر جیک اپکے دستخط ہیں جو کیتھولک کلیسا کی تنظیم کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے بلترتیب چئیرمیں اور ایگزیکیوٹیو سیکریٹری ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے شہر ٹوبا ٹیک سنگھ میں ایک اسلامی مدرسے کے نلکے سے پانی پینے کے تنازعے پر جاوید انجم نام کے ایک 18 سال کے عیسائی نوجوان پر سخت تشدد کیا گیا۔اور مدرسے کے ایک استاد اور طلبا نے اسے ذبردستی مسلمان بنانے کے لئے پانچ روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا۔ بیان کے مطابق اب سے دو ہفتے قبل شدید زدو کوب کئے جانے کے نتیجے میں جاوید انجم کا اتوار کو فیصل آباد کے ایک ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ اس دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹوبا ٹیک سنگھ کے ناظم چودھری اشفاق نے تشدد کے واقعہ کی تصدیق کی لیکن ان کے مطابق اس کے پیچھے مذہبی محرکات کا دخل نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا نے دو اشخاص کو پانی نکالنے کی موٹر چوری کرتے دیکھا اور ان میں سے ایک پر حملہ کیا جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں کسی کو بھی زبردستی دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||