ذاتی دشمنی پر سات افراد قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر نصیر آباد کے قریب ایک گاؤں میں تین افراد نے ایک ہی خاندان کے سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ آج سنیچر کی صبح گوٹھ مبارک قمبرانی میں مگسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں چار مرد دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ضلعی رابطہ افسر نصیر آباد خالد حنیف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ذاتی دشمنی کا ایک واقعہ ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق یہ ملزمان اور مقتول ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ملزم رات اسی گھر میں رہے ہیں اور صبح ساڑھے پانچ بجے ان افراد کو قتل کرکے فرار ہوگئے ہیں۔ نصیر آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق یہ رشتوں کی بنیاد پر تنازعہ پیدا ہوا جس سے اختلافات بڑھ گئے۔ ڈی سی او نصیر آباد نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں ملزم کی بیوی اور بچہ ھی شامل ہیں تاہم اس بارے میں مذید تفتیش جاری ہے ۔ ملزمان صوبہ سندھ کے علاقہ جیکب آباد کی طرف فرار ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دونوں گروہوں کی اس دشمنی میں پہلے بھی دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||