بلوچستان کےاراکینِ اسمبلی کا دھرنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احتجاجی مظاہرہ کرنے پر بلوچستان کے زمینداروں کی گرفتار اور پھر رہائی اور کچھ اراکینِ پارلیمان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین نے سپیکر کے سامنےاحتجاجی دھرنا دیا۔ بلوچستان اسمبلی میں اس طرح کا احتجاج پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔ عمومًا حزب اختلاف کے اراکین اگر کو ئی احتجاج کرتے ہیں تواسمبلی ہال سے احتجاجاً باہر نکل جاتے ہیں جو ایک روایت بن چکی ہے۔اب حزبِ اختلاف کے اراکین نےاسمبلی ہال کے اندر دھرنا دیکر احتجاج کرنا شروع کیا ہےجواب تک کافی موثر ثابت ہوا ہے۔ اسمبلی میں احتجاج کے دوران سپیکر نے کارروائی موخر کرکے زمینداروں کی رہائی کے احکامات جاری کیے جس کے بعد حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین نے ساتھ بیٹھ کر زمینداروں کےمطالبات پر غور کیا۔ بعد میں وزیراعلیٰ کے ساتھ ملکر یہ فیصلہ کیا گیا کہ زمینداروں کے مسائل اور مطالبات وفاقی حکومت کے سامنے اکٹھے پیش کیے جائیں گے۔ زمینداروں نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوۓ کہا کہ ان کے ذمہ واجب الادا قرضے معاف کیے جائیں جن کی مالیت کوئی ساٹھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جائیں اور بارہ سو پندرہ نئے ٹیوب ویلوں کی بقول ان کے بندر بانٹ ختم کرکے میرٹ کی بنیاد پر آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل قائم کرنے اجازت دی جائے ۔ زمینداروں نے احتجاج کے دوران صوبائی حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور کہا کہ اگر ان کی سنوائی نہ ہوئی تو وہ انتہائی قدم اٹھائیں گے اور اسلام آباد میں مظاہرہ کریں گے۔ سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے اس موقع پر بی بی سی کو بتایا کہ زمینداروں کے اکثر مطالبات جائز ہیں اور اراکین اسمبلی اور وزراء مل کر اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے سامنے یہ مطالبات رکھیں گے تاکہ ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پنجاب میں انفرادی طور پر خانداوں اور کمپنی کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر سکتی ہے تو کیا بلوچستان کے زمینداروں کے قرضے معاف نہیں کیے جا سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||