کوہلومیں پولیس والے ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ کوہلو کے قریب لیویز یعنی علاقائی پولیس اور نا معلوم افراد کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں دو لیویز اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر نا معلوم افراد کے نقصان کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوہلو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے لگ بھگ 350 کلومیٹر دور ہے۔ کوہلو میں تحصیل میوند کے علاقہ میں دو درجن کے لگ بھگ لیویز کو مطلوب افراد چھپے ہوئے تھے جس پر لیویز نے حملہ کیا اور یہ کارروائی کوئی بارہ گھنٹے تک جاری رہی۔ میوند تحصیل کے انتظامی افسر اصغر نے بتایا ہے کہ لیویز کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ نا معلوم افراد کے نقصان کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات نہیں ہیں انھوں نے کہا کہ فرنٹیئرر کور کو علاقے میں بھیج دیا گیا ہے اور مذید نقصان کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ بعض زرائع نے بتایا ہے کہ نا معلوم افراد کا تعلق مری قبیلے سے ہیں اور ان کے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ انتظامی افسر اصغر خان کے مطابق یہ لوگ راکٹ فائرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے جن کے خلاف لیویز نے کارروائی کی ہے۔ حال ہی میں مقامی پولیس نے لگ بھگ بیس متشبہ شدت پسندوں کو اس علاقے میں گرفتار کیا تھا۔ یہان یہ امر قابل زکر ہے کہ گزشتہ را ت نا معلوم افراد نے ایک قبائلی سردار کے گھر پر بھی راکٹ فائر کیے ہیں جس پر جوابی کارروائی بھی کی گئی لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے سوئی اور کوہلو میں راکٹ داغنے اور دیگر اسلحہ سے فائرنگ کے واقعات معمول بن چکے ہیں خاص طور پر جب سے حکومت نے ان علاقوں میں فوجی چھاونیوں کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتں فوجی چھاونیوں کے قیام کی مخالفت کررہی ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کے ان واقعات میں اشتعال دلانے والے ایجنٹ ملوث ہیں جو حالات خراب کرکے فوجی چھاونیوں کے قیام کے لیے راہ ہموار کرہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||