BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 June, 2004, 02:49 GMT 07:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف سی کی چوکی پر حملہ

بلوچستان
صوبہ بلوچستان میں مند کے قریب نا معلوم افراد نے جمعرات کی طوفانی شام میں فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں کے کیمپ پر راکٹ اور دیگر اسلحے سے حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع مو صول نہیں ہوئی ہے۔

پاک ایران سرحد سے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر نا معلوم افراد نے ایف سی کی سعید چوکی پرحملہ کیا ہے۔یہ حملہ شام کے وقت کیا گیا ہے اور اس وقت شدید آندھی اور بارش ہو رہی تھی۔اس کے علاوہ کوہلو کے علاقے میں ایف سی اور نا معلوم افراد کے مابین فائرنگ کے تبادلے اور جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں مقامات پر فائرنگ سے ان کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم اس وقت مند کے قریب پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کے لیے انتظامیہ اور ایف سی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ حملہ شمال مشرق کی جانب سے کیا گیا ہے اور تین سے چار کلومیٹر کے فاصلے سے راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ یہ چوکی مند شہر سے کوئی پچیس کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

کوہلو میں ایف سی کے مطابق نا معلوم افراد انکی چوکی پر حملہ کرکے مقامی آبادی کے اندر جا کر روپوش ہو گئے ہیں جہاں انھیں فائرنگ کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری طرف مقامی سطح پر یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ نامعلوم افراد اور ایف سی کے اہلکاروں کے مابین جھڑپ ہوئی ہے۔ لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ سوئی اور کوہلو میں راکٹ فائرنگ معمول بن چکا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اٹھارہ مئی کو مند میں علی الصبح نا معلوم افراد نے آیف سی کی چوکی پر حملہ کیا تھا جس پر ایف سی نے جوابی کاروائی کی اور فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک نوجوان ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے تھے سب ایک ہی خاندان کے افراد تھے اور وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کے ملازم بتائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز گوادر میں تین دھماکے ہوئے ہیں ۔ مئی میں گوادر میں کار بم دھماکے میں تین چینی انجینیئر ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت تاحال ان واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار تو دور کی بات زرائع ابلاغ کو یہ بھی نہیں بتا پائی کہ یہ کون لوگ ہیں۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ایسے واقعات کے بعد نا معلوم افراد زرائع ابلاغ کے ادراروں کو فون کرکے کہتے ہیں کہ ان دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات کی زمہ داری بلوق لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ قبول کرتی ہے اور یہ سب بقول ان کے پنجاب کی اجارہ داری کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد