BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 July, 2004, 19:31 GMT 00:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی بلوچستان بسوں کی ہڑتال
بس سروس بند ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا
بس سروس بند ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا
کراچی اور بلوچستان کے درمیان چلنے والی بسوں اور کوچوں کے مالکان کی ہڑتال کے نتیجے میں کراچی اور بلوچستان کے مختلف شہروں کے درمیان چلنے والی بس سروس بند ہوگئی ہے۔

اتوار کو ہڑتال کا اعلان گزشتہ شب کو ہونے والے واقع کے بعد کیا گیا جس میں بلوچستان کے شہر تربت سے کراچی آنے والی دو بسوں کو چند افراد نے کراچی کے علاقے شیر شاہ سے اغوا کر لیا اور بعد میں بسوں میں سوار چالیس مسافروں کو لوٹنے کے بعد بسوں کو دستی بم مار کر تباہ کر دیا۔

سندھ بلوچستان بس اونرز ایسوسیشن کے صدر اورنگزیب بلوچ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ لیاری کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ارشد پپو گروپ کے خلاف اس واقع کی ایف آئی آر درج کروادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ گزشتہ کئی برس سے بسوں کے مالکان کو پریشان کر رہا ہے اور ان کو بھتہ دینے کے لیے دباو ڈال رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سے روزآنہ پچیس بسیں بلوچستان میں تربت، گوادر، پنجگور اور دیگر شہروں کے لیے روانہ ہوتی ہیں اور اتنی ہی بسیں بلوچستان سے کراچی آتی ہیں۔ ان بسوں میں روزآنہ تقریبا ڈیڑھ سے دو ہزار مسافر سفر کرتے ہیں جن کے آمدورفت کا سلسلہ ہڑتال کی وجہ سے رک گیا ہے۔

اورنگزیب بلوچ نے بتایا کہ لیاری کے علاقے میں بسوں کے اٹھارہ اڈے ہیں جن کے بارے میں ان کی ایسوسیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ فل الحال ان کو بند کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ارشد پپو گروپ کی کارروائیوں کے بارے میں سندھ پولیس کے سربراہ کو چند ماہ پہلے بھی آگاہ کیا گیا تھا تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد