BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کیلئے اے آر ڈی کا وفد

بلوچستان کیلئے اے آر ڈی کا وفد
اتحاد برائے بحالئ جمہوریت (اے آر ڈی) نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کاایک اعلی سطحی وفد بلوچستان کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔

یہ فیصلہ اے آر ڈی کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت اتحاد کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کی۔ اے آر ڈی کا وفد ان کی سربراہی میں بلوچستان جائے گا تاہم ابھی باقی ممبران کے ناموں کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

اجلاس نے اپنی متفقہ قرارداد میں اخذ کیا کہ قبائلی علاقوں خصوصاً وانا میں فوجی آپریشن کی وجہ سے فوجی وردی نفرت کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

اجلاس کے بعد اے آر ڈی کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفرجھگڑا نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اپنے وفد کی رپورٹ کی روشنی میں اتحاد بلوچستان کے حوالے سے اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گا۔

اےآرڈی کا یہ فیصلہ حال ہی میں خضدار میں اسکاؤٹس پر ہونے والے حملوں اور بلوچ قوم پرست لیڈروں کے خلاف مقدموں کے اندراج کے بعد کیا گیا ہے۔ اےآرڈی کا وفد بلوچ قوم پرستوں سے بھی ملاقات کرے گا۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ ملک کو بحران سے نکالنے اور حقیقی جمہوریت اور پارلیمانی نظام بحال کرنے کے خاطر فوج مکمل طور پر بیرکوں میں واپس چلی جائے۔

دریں اثناء سینٹ میں حزب اختلاف کے پچیس اراکین نے سینٹ کا اجلاس طلب کرنے کےلیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ اپنی درخواست کے مطابق حزب اختلاف اجلاس میں امن وامان کی صورتحال پر بحث کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اے آر ڈی کے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عراق فوج بھیجنے سے باز رہے۔ ایک قرارداد کہ مطابق حکومت کی خارجہ پالیسیاں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

اے آر ڈی نے تنظیم کے صدر جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اتحاد نے سابق وزراء اعظم بینظیربھٹو اور نوازشریف کو واپسی کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ دہرایا۔

اجلاس میں ہتک عزت 2004ء کے قانون میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ قانون کا مقصد پریس کی آزادی کو سلب کرنا ہے۔

اتحاد نے کارگل آپریشن کے پس منظر، مقاصد اور ناکامی کے اسباب معلوم کرنے کے لیے عدالت اعظمی کے سابقہ ججوں پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کمیشن تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔

اجلاس میں راجہ ظفرالحق، سرانجام خان، تہمینہ دولتانہ، راجہ پرویز اشرف اور اے آر ڈی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد