خضدار: مینگل سمیت بارہ پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر خضدار میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کے حوالے سے سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل اور ان کے بھائی سابق سینیٹر جاوید مینگل سمیت بارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ خضدار میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین اور اراکین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سردار اختر مینگل ان دنوں ملک سے باہر ہیں۔ خصدار پولیس تھانے میں زخمی ہونے والے اہلکار حسنین کی درخواست پر تین سو دو، تین سو چوبیس اور سات دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں بی ان پی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ، عطاءاللہ بلوچ، ڈاکٹر شفیع دانش، رفیق دانش رفیق دانش، سعداللہ مینگل، رشید بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ اطلاع کے مطابق ان پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے۔ جبکہ پولیس اس وقت تین حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔اس وقت پولیس نے کوئی بیس کے لگ بھگ افراد گرفتار کیے ہیں جن میں بڑی تعداد طلباء تنظیموں سے منسلک سرگرم ارکان کی ہے۔ ان میں سے دو افراد کو گزشتہ روز سی آئی ڈی کوئٹہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کے خضدار میں اتوار کے روز تین نا معلوم افراد نے فوجیوں کی ایک گاڑی پر حملہ کر دیا تھا جس میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||