BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 August, 2004, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی بند کریں: بلوچ رہنما

فوجی کارروائی بند کریں: بلوچ رہنما
پاکستان کے مغربی صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنماؤں نے صوبے میں جاری فوجی آپریشن فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ قوم پرست رہنماؤں سینیٹر ثناءاللہ بلوچ، رکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل، ڈاکٹر عبدالحئی اور پشتون رہنماؤں اکرم شاہ نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ اب تک درجنوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ان افراد کی بازیابی کے متعلق عدالتی احکامات کو بھی سیکورٹی ایجنسیز نہیں مانتیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی تشدد بند نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں انسانی جانوں کا زیاں عراق، فلسطین اور بیروت جتنا ہوسکتا ہے۔

ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوجی وردی نہیں اتاریں گے اور ملک میں مارشل لا لگانا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں جب بھی مارشل لا لگایا جاتا ہے اس سے پہلے بلوچستان میں فوج کشی کی جاتی ہے۔

انہوس نے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ مثلاً اکتوبر سن انیس سو اٹھاون میں پہلی بار مارشل لا لگانے سے قبل خان آف قلات کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تھی یا پھر ستر کی دہائی میں لگنے والے مارشل لا سے قبل بلوچستان میں فوج کشی ہوئی تھی۔

کانفرنس کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے ثناء اللہ بلوچ نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت گوادر کے گرد نواح سے بلوچوں کو بے دخل کرکے ان کی زمین پر قبضہ کرکے ملک کے سرمایہ داروں کو بیچنا چاہتی ہے اور اس لیے آپریشن کیا جا رہا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ حکومت کے اس دعوے کے بارے میں ان کی رائے کیا ہے جس میں حکومت کہتی ہے کہ بعض بااثر لوگ ٹھیکے نہ ملنے اور ذاتی مفادات کی خاطر مزاحمت کاروں کو حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں؟

اس پر سینیٹر بلوچ نے کہا کہ وہ سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کی بات پارلیمان میں بھی کرتے ہیں لیکن جب ان کی بات نہیں سنی جائے گی تو بلوچستان کے ایسے غیرت مند بیٹے بھی ہیں جو اپنے حقوق کے لیے مرنے اور مارنے سے گریز نہیں کریں گے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ گوادر بندرگاہ اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے مخالف اس لیے ہیں کہ ان منصوبوں سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تمام ٹھیکے فوجیوں کے زیر سایہ ان کے من پسندوں کو دیے گئے۔

ان کے مطابق گوادر بندرگاہ تو بلوچستان میں ہے لیکن اس کی اتھارٹی کا دفتر صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ہے اور اگر ڈرائیور بھی بھرتی کیا جاتا ہے تو وہ صوبہ پنجاب سے کیا جاتا ہے۔

عبدالرؤف مینگل نے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے مخالف نہیں چاہے وہ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں ہو یا بلوچستان میں، لیکن وہ بے گناہ افراد کے خلاف شدت پسندی کی آڑ میں کاروائی کی مخالفت اور مذمت کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور اکرم شاہ نے کہا کہ بلوچستان اور دیگر چھوٹے صوبوں کو غلام سمجھا جا رہا ہے اور اب ستر کی دہائی والا زمانہ نہیں کہ فوج کشی کرکے بلوچوں کو خاموش کرایا جائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بشمول سیاسی تمام اداروں پر فوجی قابض ہیں اور پچانوے فیصد دولت بھی ان ہی کے پاس ہے لیکن تمام برایوں کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد کی جاتی ہے اور بدعنوان بھی انہیں قرار دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان شوکت سلطان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

دریں اثناء وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد