بلوچ قبائلی سردار نواب بگتی سے انٹرویو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز بلوچستان کے جنوب مغربی شہر خضدار میں بلوچی گروہوں کے حملے میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت پر بی بی سی اردو سروِس کے ہمارے ساتھی جعفر رِضوی نے بلوچ قبائیلی سردار اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگتی سے گفتگو کی: سوال: یہ مزاحمت کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ جواب: جیسے ہم نے سنا ہے بلوچستان لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کی ہے اور بی ایل اے تو ابھی بلوچستان میں ہر جگہ موجود ہے اور ان کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ اور امکان یہ کہ حکومت جو ملٹری آپریشن مکران میں، خاص کر تربت اور گوادر کے علاقوں میں شروع کر رکھا ہے، جیٹ ایئر کرافٹ، کوبرا ہیلی کاپٹر اور ابھی دو تین دنوں سے ٹینک بھی لائے گئے ہیں اور بمباری ہو رہی ہے تو یہ تمام رد عمل ہے۔ میں تو اس کو اس طریقے سے دیکھتا ہوں کہ یہ ری ایکشن ہو سکتا ہے۔ سوال: کس چیز کا رد عمل ہے؟ جواب: رد رمل ایسے ہے کہ یہاں فوجی کارروائی ہو رہی ہے۔ فوجی آپریشن ہو رہا ہے۔ میں نے بتایا نہ کہ جیٹ ہیں، فائٹر ہیں، ہیلی کاپٹر ہیں، فورسز ہیں ، ٹینک ہیں۔ اور آپ کو کیا چاہیے۔ سمندر میں بحری فورسز بھی ہونگی۔ اندرون میں اور بلوچستان کی اور جگہوں جیسے بگتی علاقہ ہے یا مری علاقہ ہے وہاں پر بھی معاملہ آپریشن کے دہانے پر ہے۔ کسی بھی وقت یہاں پر بھی آپریشن ہو سکتا ہے۔ امکان یہ تھا کہ یہاں مشرق میں آپریشن پہلے ہوگا۔ لیکن اچانک مغرب میں پہلے شروع ہو گیا۔ سوال: بگتی صاحب یہ بتائیے کہ فوجی کارروائی کیوں ہو رہی ہے ؟ کیا مقصد ہے؟ فوجی حکام کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟ جواب: فوجی حکام ہم سے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں۔ یہ بات تو آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کیوں کر رہے ہیں اور کس وجہ سے کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سارے بلوچوں کو دبانے کے لیے۔ یہ پیغام پہنچانے کے لیے کہ ایک جگہ ہم ان کو ماریں پیٹیں تا کہ یہ رک جائیں یا پیچھے ہٹ جائیں۔ سوال: یہ بتائیے کہ بلوچستان کی قوم پرست قوتیں اس فوجی کارروائی کی مخالفت کیوں کر رہی ہیں؟ انہیں کیا خطرہ ہے؟ جواب: تو کیا آپ کے خیال میں کوئی فوجی آپریشن کو سلام کرے اور تالی بجائے کہ بڑی اچھی بات ہے۔ یہ کہاں کی بات کر رہے ہیں۔ کس دنیا کی بات کر رہے ہیں۔ آپ کے اوپر فوجی کارروائی ہو اور آپ تالی بجائیں کہ بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ یہ تو بیوقوف بھی نہیں کر سکتا۔ آپ کے گھر کو لوٹا جا رہا ہے۔ آپ کے گھر کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ آپ کے لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ آپ کی دولت کو چھینا جا رہا ہے تو آپ کیا تالی بجائیں گے اور سراہیں گے کہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں؟ سوال: کیا تشدد کا یہ راستہ مسئلے کا حل ہو سکتا ہے؟ جواب: یہ تشدد کا راستہ تو نہیں ہے۔ آپ کو جب وہ مجبور کرتے ہیں کہ ہتھیار اٹھاؤ۔ آپ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ آپ مزاحمت کریں۔ لڑنا جھگڑنا مارنا مرنا تو کوئی شوق سے تو نہیں مرتا۔ کوئی شوق سے نہیں لڑتا۔ شوق سے تو اپنا گھر بار تباہ نہیں کرتا۔ مجبور ہو کر کیا جاتا ہے۔ 1971ء میں آپ کے خیال میں بنگالی شوقیہ لڑ رہے تھے؟ ادھر کی حالت دیکھیں کہ کیوں ہوا۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ایسا کریں۔ سوال: کیا قوم پرستوں نے کبھی پر امن سیاسی حل کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے؟ جواب: قوم پرستوں نے ہر وقت کہا ہے کہ ہم سے بات کرو۔ ہمیں ہمارے حقوق دو۔ ہم سے مذاکرات کرو۔ ہم آئین میں ترمیم چاہتے ہیں۔ جمہوری طریقے سے ترمیم ہو جو لوگوں کو قبول ہو۔ لوگوں کے حقوق انہیں ملیں۔ خاص طور پر صوبائی خود مختاری۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ہماری اپنی پارٹی نے تین سال پہلے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا وہ ابھی تک سنیٹ میں رکھا ہوا ہے۔ یہ جامع ترمیمی بل پڑا ہوا ہے اور آگے نہیں بڑھا۔ حکومت اسے اٹھا نہیں رہی۔ پیش کرنے کے لیے نہیں چھوڑ رہے۔ زور آور ہیں زور کے بل بوتے پر سب کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر لوگوں کے لیے کیا رہ جاتا ہے۔ جب جمہوری اور مذاکرات کے راستے بھی بند ہوں تو لوگ پھر کیا کریں؟ سوال: قوم پرست کیا ترمیم چاہتے ہیں؟ کوئی زاویہ تو بتائیے؟ جواب: موٹے الفاظ میں۔ ایک فیڈرل لسٹ ہے اور ایک کنکرنٹ لسٹ (قانون سازی کے وہ موضوع جن پر صوبے اور مرکز دونوں کا اختیار ہوتا ہے) اور ایک ہے کچرا۔ اس وقت ہمارے پاس صوبوں کے اختیار کی شکل میں کچرا ہے۔ اصل چیز فیڈرل لسٹ ہے۔ یہ اتنی بڑی نہیں لیکن کنکرنٹ لسٹ بہت بڑی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس لسٹ سے صوبے کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کنکرنٹ لسٹ کو ختم کرو اور وہ تمام صوبوں کے اختیار میں دے دو۔ سوال: کیا قوم پرست قوتوں نے اس مسئلے پر سرکاری حلقوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی ہے؟ وہ کیا کہتے ہیں؟ جواب: ہماری پارٹی نےتین ساڑھے تین سال پہلے یہ بل پیش کیا تھا اور یہ ابھی تک اسمبلی میں پڑا ہوا ہے۔ اس پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو ہم اور کیا بات کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||