BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 August, 2004, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول
News image
بلوچستان لبریشن آرمی نامی ایک تنظیم نے اتوار کی صبح بلوچستان کے جنوب مغربی شہر خضدار میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فوجیوں کی گاڑی پر کئے جانے والے اس حملے میں چھ افراد کی ہلاکت کے علاوہ دو افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔

ایک شخص نے ذرائع ابلاغ کےدفاتر میں ٹیلی فون کر کے بتایا کہ فوجیوں پر حملہ بلوچ لبریشن آرمی نے کیا ہے۔

فون کرنے والے شحض جس نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے کہا کہ فوجیوں پر حملہ تربت میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

اس تنظیم کے بارے میں کسی قسم کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اس تنظیم کے قائدین کا کچھ پتہ ہے۔

اس سے پہلے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں راکٹ حملوں اور بم دھماکوں کی ذمہ داری اسی نام کی ایک تنظیم قبول کر چکی ہے۔

اتوار کی صبح بلوچستان کے جنوب مغربی شہر خضدار میں نامعلوم افراد نے گاڑی پر حملہ کر کے پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا تھا۔

خضدار کوئٹہ کے جنوب میں تقریباً تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے خضدار پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک گاڑی میں سوار کہیں جا رہے تھے کہ کچے کے علاقے میں ندی کے کنارے چند نامعلوم افراد نے گھات لگا کر کلاشنکوف سے فائرنگ کر دی جس سے پانچ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جنہیں خضدار میں واقع فوجی ہسپتال لے جایا گیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے کہا کہ یہ دہشت گردی کی عام کارروائی ہے اور اس کا نشانہ پاکستانی فوج نہیں تھی۔

اس سے قبل سنیچر کے روز بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور قبائلیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد مظاہرین نے کوئٹہ سے چمن جانے والی ریل گاڑی کو راستے میں روک لیا تھا اور پاک افغان سرحد بند کر دی گئی تھی۔

یہ جھڑپیں سنیچر کی صبح تین اور چار بجے کے درمیان اس وقت شروع ہوئیں جب قبائلی اپنے ایک رہنما جیلانی خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

قبائلیوں نے کوئٹہ سے چمن جانے والی ریل گاڑی کو شیلا باغ اور قلعہ عبداللہ کے درمیان روک دیا تھا اور قبائلی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد