BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 August, 2004, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقوں میں ٹیکس ختم

News image
حکومتِ پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں انکم اور سیلز ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ مقامی تاجروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

صوبائی حکومت کے زیرانتظام قبائلی علاقے مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی اور گیس کے صارفین سے کچھ عرصے سے پندرہ فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔

اس اقدام کے خلاف قبائلیوں نے احتجاجی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے منتظم گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے اس ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دے دیا۔

قبائلی علاقوں میں صنعت اور تجارت کی تنظیم نے اس سرکاری فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی ان علاقوں میں قائم صنعتوں پر سے سینٹرل ایکسائز ٹیکس بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرائبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی غلام علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی اپنے فیصلوں میں قبائلی علاقوں میں ٹیکس کو غیرآئینی قرار دے رکھا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں پر سینٹرل ایسائز ڈیوٹی کے نفاذ کے خلاف بھی ردعمل پایا جاتا ہے۔’اس ٹیکس کا مقصد بظاہر ان صنعتوں کو قبرستان میں تبدیل کرنا ہے۔‘

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگرچہ قبائلی علاقے آئین کے آرٹیکل 247 سب سیکشن 3 کے تحت ٹیکس فری ہیں لیکن مختلف مدوں میں ان سے اتنا ٹیکس یا بھتہ وصول کیا جاتا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد