قبائلی علاقوں میں ٹیکس ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں انکم اور سیلز ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ مقامی تاجروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے زیرانتظام قبائلی علاقے مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی اور گیس کے صارفین سے کچھ عرصے سے پندرہ فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔ اس اقدام کے خلاف قبائلیوں نے احتجاجی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے منتظم گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے اس ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دے دیا۔ قبائلی علاقوں میں صنعت اور تجارت کی تنظیم نے اس سرکاری فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی ان علاقوں میں قائم صنعتوں پر سے سینٹرل ایکسائز ٹیکس بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرائبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی غلام علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی اپنے فیصلوں میں قبائلی علاقوں میں ٹیکس کو غیرآئینی قرار دے رکھا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں پر سینٹرل ایسائز ڈیوٹی کے نفاذ کے خلاف بھی ردعمل پایا جاتا ہے۔’اس ٹیکس کا مقصد بظاہر ان صنعتوں کو قبرستان میں تبدیل کرنا ہے۔‘ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگرچہ قبائلی علاقے آئین کے آرٹیکل 247 سب سیکشن 3 کے تحت ٹیکس فری ہیں لیکن مختلف مدوں میں ان سے اتنا ٹیکس یا بھتہ وصول کیا جاتا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||