نیک محمد کو سپردِ خاک کر دیاگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان کے حمایتی قبائلی رہنما نیک محمد کو جمعہ کی صبح جنوبی وزیرستان میں ان کے آبائی گاؤں کالو شاہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ نیک محمد کے جنازے میں ہزاروں قبائلی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق جواں سال قبائلی رہنما نیک محمد کی ہلاکت پر علاقے میں خوف و ہراس اور رنج و غم کے ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی لوگوں کے حوالےسے اطلاع دی ہے کہ نیک محمد کو گائیڈڈ میزائیل کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ مقامی لوگ نے بتایا کے انہوں نے سیٹی کی سی آواز سنی تھی جس کے بعد ایک میزائیل اس عمارت پر لگا جس میں نیک محمد موجود تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان پر میزائل بغیر پائلٹ کے ایک طیارے سے مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کے پاس وہ ٹیکنالوجی نہیں ہے جس کے ذریعے اس سیٹیلایٹ فون کا پتا چلایا جا سکے جو نیک محمد استعمال کر رہے تھے۔ اس بات کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوج نے پاکستان آرمی کو اس سلسلے میں مدد فراہم کی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے اس حملے میں نیک محمد کے علاوہ مرنے والوں کی تعداد چار سے پانچ بتائی جاتی ہے۔ مرنے والوں میں نیک محمد کے ایک قریبی دوست اور ان کے دو صاحبزادے بھی شامل ہیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ جمعرات کی شام کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ نیک محمد افغان سرحد کے قریب ایک مقام پر اپنے چند ساتھیوں سمیت چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس جگہ حملہ کیا اور اس حملے میں نیک محمد اور ان کے چند ساتھی ہلاک ہو گئے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ نیک محمد اس حملے میں پہلے شدید زخمی ہوئے اور انہیں زخمی حالت میں وانا کے ایک ہسپتال لے جایا یا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے اس حملے کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج ، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس مشرکہ طور پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیک محمد خود بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث تھے اور وہ غیر ملکیوں کی بھی مدد کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے اس حملے میں نیک محمد کے ساتھ ان کے چار ساتھی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل میں ایک معاہدے کے نتیجے میں نیک محمد اور ان کے چار ساتھیوں نے اپنے آپ کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ وانا سے تقریباً تیس کلومیٹر شمال میں شکئی کے ایک مدرسے میں ایک تقریب میں حکومت نے القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب ان پانچ افراد کے لئے معافی کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے پاکستان سے وفاداری کا وعدہ کیا تھا۔ اس تقریب میں حکومت کو مطلوب افراد اور ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں کے علاوہ پاکستان فوج کے کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین کے علاوہ انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر نیک محمد اور ان کے ساتھیوں حاجی شریف، مولوی محمد عباس اور نور الاسلام نے کور کمانڈر کو ہار پہنائے اور بغل گیر ہوئے۔ فوجی حکام کو قبائل کی جانب سے کلاشنکوف، جائے نماز، مسواک اور لنگیاں بطور تحفہ بھی پیش کی تھیں۔ لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر نہ چل سکا کیونکہ نیک محمد کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اس میں شامل نہیں تھا جبکہ حکام کا اصرار تھا کہ وہ مشتبہ غیر ملکی افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||