وانا آپریشن ختم ہوگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں غیر ملکی افراد اور ان کے مقامی حامیوں کے خلاف پانچ روز سے جاری فضائی اور زمینی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ شکئی کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز فوجی طیاروں نے علاقے پر بمباری نہیں کی البتہ بری فوج کے سپاہی غیر ملکیوں اور ان کے اسلحہ کی تلاش میں مصروف رہے۔ سنگھاری گاؤں سے ایک شخص نور جہاں محسود نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں پر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے رہتے ہیں اور ان کو علاقے کی ساڑھے گیارہ ہزار فٹ بلند سب سے اونچی چوٹی کے قریب بھی دیکھا گیا۔ مقامی دیہاتیوں نے ایک گھر کے ملبے سے دو مردوں اور دو عورتوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران پچاس شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مطابق یہ تعداد چالیس ہے۔ پشاور میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے مزید لاشیں بھی دبی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ علاقے میں بمباری کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ علاقے کی ناکہ بندی کی وجہ سے وانا اور شکئی میں روز مرہ معمولات بری طرح متاثر ہوئے اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||