اس کے بعد کیا ہوگا! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آخری مرتبہ اپنے ہی علاقے میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال انیس سو تہتر سے پچھتر تک بلوچستان میں قبائلی شورش کچلنے کے لئے ہوا تھا۔جبکہ قبائیلی علاقے وزیرستان میں فضائی قوت کا استعمال دوسری دفعہ ہو رہا ہے۔انیس سو اڑتالیس میں فقیر ایپی کی بغاوت کچلنے کے لئے بھی یہاں بمباری ہو چکی ہے۔ لیکن وزیرستان میں ماضی کی کارروائی اور آج کی کارروائی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ مبینہ طور پر امریکی فوجی مشیروں اور امریکہ کے فراہم کردہ سیٹلائٹ نقشوں کی مدد سے نشان زدہ اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ جب ڈیڑھ سو سے زائد شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پانچ مطلوبہ قبائلی شخصیات کو عام معافی ملی تھی اور متحارب قبائلیوں اور پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین شاہ نے ایک دوسرے کو ہار پھول پہنا کر لنگیوں، جاۓ نمازوں اور تسبیحات کا تبادلہ کیا تھا تو یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ غلط فہمیاں دور ہو چکی ہیں۔حکومت کو غیر ملکیوں کے وزیرستان میں بطور مہمان رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اگر انکے میزبان انکے چال چلن کی ضمانت دیں۔اور اگر یہ غیر ملکی علاقہ چھوڑنا چاہیں تو بخوشی گرفتاری کے خوف کے بغیر چھوڑ سکتے ہیں۔ان غیر ملکیوں کی رجسٹریشن بھی ہو گی۔ مگر سمجھوتے میں اسکے لئے کوئی حتمی تاریخ نہیں رکھی گئ تھی۔ یہ سمجھوتہ بنیادی طور پر قبائلی علاقوں کے امور کے نگراں صوبائی گورنر اور پولٹیکل انتظامیہ کے درمیان نہیں بلکہ فوج اور قبائلیوں کے درمیان ہوا تھا ۔لیکن جب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس سمجھوتے کو سراہنے سے گریز کیا اور اسلام آباد سے اندرونِ خانہ اسکی وضاحت طلب کی تو حکومتِ پاکستان نے اس سمجھوتے سے فاصلہ بڑھانا شروع کر دیا۔ اس سے قطع نظر کہ سمجھوتے کے ناکام ہونے کا الزام کسے دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ جب گزشتہ ماہ فوج اور قبائلی عمائدین میں یہ معاہدہ طے پایا تھا اسوقت بھی وزیرستان میں سیاسی اور عسکری حالات وہی تھے جو اسوقت ہیں۔تو پھر معاہدہ کس کے کہنے پر اور کس امید پر کیا گیا تھا۔اور اب جبکہ یہ معاہدہ ناکام ہو گیا ہے تو اسکے ذمے دار صرف قبائلی ہی کیوں ہیں۔کور کمانڈر کو کیسے مکمل بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ قبا ئلی ہوں یا آنے والی پاکستانی حکومتیں۔ انہیں تو اسی خطے میں رہنا ہے، جینا ہے اور مرنا ہے۔ رہے اس خطے کے تعلق سے امریکی مفادات تو وہ ایک نہ ایک دن پھر تبدیل ہو جائیں گے۔اس کے بعد کیا ہوگا ؟ تو کیا کسی کو یہ گمان بھی ہے کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ کل تاریخ کا باب نہیں بنے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||