وانا کارروائی آخری مراحل میں:ترجمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے وانا میں پانچ روز قبل شروع ہونے والی کارروائی کو کامیاب قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شر پسند‘ عناصر کے اڈے کا خاتمہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر میں وہ غیر ملکی جو ’پاکستان کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘ اور کچھ مقامی اور افغان شامل ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے صحافی دلاور خان وزیر نے بی بی سی کو مقامی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ پانچویں روز بھی فوجی کارروائی جاری رہی اور شکئی کے قریبی علاقے پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو کامیابی حاصل ہوئی ہے کیونکہ پہلے چار دنوں کے مقابلے میں اسے آج قدر کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جانی نقصان کے بارے میں انہوں ں نے کہا کہ اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں اور وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ مقامی افراد کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے دلاور وزیر نے کہا کہ شکئی کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہیں اور لوگوں کے پاس زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بجلی پانی بھی بند ہے اور لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ پوری کارروائی کے دوران فوج کہ صرف دو جوان ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو فوج کو مخالفین کی پانچ لاشیں ملی تھیں اور انہیں اطلاع ملی ہے کہ بارہ مزید افراد کو دفنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملبے میں کچھ لاشیں نظر آرہی ہیں لیکن ان کی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دلاور وزیر نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا کہ فوج کا بھی کافی جانی نقصان ہوا۔ افغان پنا گزینوں کو علاقے سے نکلنے کے حکم کے بارے میں دلاور وزیر نے بتایا کے ان کے وہ لوگ حکام سے مِل کر مہلت کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وانا میں چالیس سے پچاس ہزار کے قریب افغان موجود ہیں جووہاں پر تیس پینتیس سال سے آباد ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ یہ لوگ مقامی افراد کے ساتھ مِل کر کاروبار کرتے ہیں زمینداری کرتے ہیں اور ان کے بچے مقامی سکولوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے لیے یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||