وانا: القاعدہ کے بیس مشتبہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں ایک جھڑپ کے دوران فوج نے القاعدہ کے بیس مشتبہ عسکریت پسند افراد کو ہلاک کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک سینئر ترجمان بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا ہے کہ بدھ کو ہونے والی جڑپوں کو بعد فوج نے متعدد عسکریت پسندوں کا محاصرہ کر لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح شکئی میں جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ قبائلی ملیشیا پر دباؤ تھا کہ یا تو وہ القاعدہ کے حامی غیر ملکیوں کو گرفتار کریں اور یا ایک اور کارروائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ آج صبح ایک فوجی کالونی اور چند چوکیوں پر راکٹوں سے حملے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ وانا سے شکئی جانے والی سڑک پر طوروام پل کے قریب تصادم میں آٹھ غیرملکی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گولیوں کا تبادلہ ابھی جاری ہے۔ دوسری جانب گزشتہ دنوں حکومت سے معافی پانے والے قبائلی جنگجو نیک محمد نے بی بی سی کے ساتھ ایک نامعلوم مقام سے فون پر بات کرتے ہوئے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ’اور کون یہ کام کرسکتا ہے۔ ہم بے قصور ہیں لیکن حکومت ہمیں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔’ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نیک محمد نے اس طرح ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||