BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 May, 2004, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: غیرملکی ہیں، نہیں ہیں؟

News image
وانا میں بظاہر حکومت کو اپنے مطالبات منوانے میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ہوئی
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مبصرین کا کہنا ہے کہ صورتحال بظاہر ’ڈیڈ اینڈ‘ پر پہنچ چکی ہے۔ قبائلی لشکر تین روز تک مختلف علاقوں کی خاک چھان کر خالی ہاتھ واپس آگیا ہے جبکہ صدر پرویز مشرف نے ایک اجلاس میں مستقبل حکمت عملی پر غور کیا ہے۔

لیکن اس ساری صورتحال میں انتہائی خطرناک واقعات گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی فوجیوں کے تین بار پاکستانی علاقے شمالی وزیرستان میں گھس آنا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام اسے محض ایک حادثہ قرار دے رہے ہیں لیکن مبصرین کے خیال میں غلطی ایک مرتبہ ہوتی ہے بار بار نہیں۔ بظاہر پاکستان کا احتجاج اور شور شرابا بھی کوئی اثر نہیں دکھا رہا ہے۔

سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مسلسل مداخلت کا ایک مقصد پاکستانی حکومت اور خاص کر قبائلیوں پر واضح کرنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو سرحد پار کرنا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں مشتبہ القاعدہ اور طالبان کے تعاقب میں پاکستان میں داخل ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صدر پرویز مشرف نے ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا جس میں گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد یوسف، کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

گورنر نےاجلاس کو جنوبی وزیرستان میں بات چیت کے ذریعے القاعدہ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ البتہ اجلاس نے واضح کیا کہ القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے لئے قبائلی علاقوں میں کوئی جگہ نہیں اور انہیں یا تو ہتھیار ڈالنے ہونگے اور یا پھر انہیں ’ختم’ کر دیا جائے گا۔

ایسی دھمکیاں ان عناصر کو پہلے بھی کئی بار دی جا چکی ہیں جن کا اب تک بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ قبائلیوں پر سرکاری دباؤ کے تحت احمدزئی وزیر قبائل کا مسلح لشکر بھی تشکیل دیا گیا اور تین روز تک اس نے غیرملکیوں کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

کئی لوگ اسے لشکر اور مذاکرات کی ناکامی بھی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن قبائلیوں خاص کر نیک محمد جیسے لوگوں کا اب بھی وہی موقف ہے کہ پہلے تو کوئی غیرملکی تھے ہی نہیں اور اگر تھے بھی تو اب وہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ تاہم قبائلیوں نے لشکر کی سربراہی کرنے والی چھتیس افراد پر مشتمل کمیٹی قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ بقول ان کے کسی بھی غیرملکی کی موجودگی کی اطلاع پر فوری کارروائی کے لئے لشکر کو دوبارہ اکٹھا کر سکے گی۔

یہ معلوم نہیں کہ اب غیرملکیوں کے بارے میں حکومت کے پاس کیا خفیہ معلومات ہیں۔ آیا وہ واقعی جا چکے ہیں یا ابھی بھی موجود ہیں؟ البتہ فی الحال حکومت پھر جلد بازی میں کوئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔

ایسے میں تمام نظریں حکومت یا فوج کے اگلے قدم پر لگی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ بے صبر سرحد پار بیٹھے امریکی نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد