BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقوں میں غیرملکی
جنوبی وزیرستان کے قبائلی
جنوبی وزیرستان کے قبائلی
گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان کے قبائلی علاقے، بالخصوص وانا کے آس پاس، القاعدہ کے مشتبہ ارکان کی تلاش میں پاکستانی فوج کارروائی کرتی رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان اور قبائلی سرداروں کے درمیان ایک حالیہ سمجھوتے کے تحت کہا گیا تھا کہ علاقے میں موجود غیرملکی افراد خود کو رجسٹر کرائیں تاہم کسی نے رجٹسریشن نہیں کرایا ہے۔ ان غیرملکیوں پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں جاکر حملے کرتے رہتے ہیں۔

یہ نہیں معلوم کہ ان کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں ہے۔ لیکن افغانستان کی حکومت فکرمند رہی ہے کہ ان میں طالبان اور القاعدہ کے کارکن چھپے ہوئے ہیں۔ بعض قبائلی سرداروں کی مدد سے ان غیرملکیوں نے پاکستانی فوج کے خلاف مسلح مزاحمت کی بھی کی تھی جس میں کئی فوجی مارے گئے تھے۔

آپ کے خیال میں قبائلی علاقے کا یہ مسئلہ کیا ہے؟ اگر آپ قبائلی علاقے میں ہیں تو ہمیں اپنے فون نمبر کے ساتھ اپنے خیالات بھی بھیجیں۔ غیرملکیوں کے ساتھ کیا کیاجانا چاہئے؟ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


احتشام فیصل چودھری، شارجہ: قبائلی علاقوں میں کوئی غیرملکی نہیں ہے اور اگر کوئی ہے بھی تو وہ افغان-روسی وار کے دوران امریکہ اور پاکستان کی رضامندی سے یہاں آباد ہوا۔ رہا سوال افغان حکومت کا تو اس بیچاری نے ابھی تک ماسوائے الزامات لگانے کے اور کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے۔

علی عاصم، کراچی: رجسٹریشن کروانا عقل مندی نہیں، کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ مشرف حکومت امۃ مسلمہ سے مخلص نہیں۔

مینا ناز چودھری، پاکستان: اسلام میں اس طرح کے رجسٹریشن کا کوئی کنسیپٹ نہیں ہے، وہ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ ترقی یافتہ ممالک نے کمزور ممالک کو دبانے کے لئے ایجاد کیا ہے۔

منشیات فروش؟
 اب جب انہوں نے اپنے خون سے ایک نئی تاریخ رقم کی اور روسی افواج کو پسپا کردیا تو اب منشیات فروش، اسلحہ کے بیوپاری قرار دیے جاتے ہیں۔
محمد وقاص، میلبورن

محمد وقاص، میلبورن: کل تک تو یہ لوگ آئی ایس آئی کے ساتھ شانہ بشانہ پاکستان کی سلامتی اور مغربی سرحدوں کے محافظ سمجھے جاتے تھے، اب جب انہوں نے اپنے خون سے ایک نئی تاریخ رقم کی اور روسی افواج کو پسپا کردیا تو اب منشیات فروش، اسلحہ کے بیوپاری قرار دیے جاتے ہیں۔

جہانگیر احمد، دوبئی: میری رائے یہ ہے کہ اگر ان غیرملکیوں کو نکالا جائے گا تو ایسا ہوگا جیسے پھل دار درخت سے پھل حاصل کرکے اس کو کاٹ دیں اور اگلے سال کے لئے پھل کا انتظار نہ کریں۔ ان غیرملکیوں نے ہمیں افغانستان میں بڑی مدد کی تھی۔

طارق عزیز، جھنگ: میرے خیال سے اگر ایک معاہدہ ہوا ہے تو نیک محمد صاحب کو وہ معاہدہ ماننا چاہئے کیونکہ اسلام میں معاہدہ ماننا ضروری ہے۔

محمد عاصم، کراچی: میری رائے میں مشرف حکومت امریکہ کی پِٹھو ہے اور اس حکومت پر کسی قسم کا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

خالد سید، پاکستان: جناب محترم ایڈیٹر صاحب، یہ قبائلی پاکستان کا ایک حصہ ہیں اور ان کو وہ پورے حقوق دینے چاہئیں جو پاکستانی حکومت کی طرف سے ہے، کیونکہ پاکستان کے لئے یہ غیرملکی اس وقت دہشت گرد ہوگئے ہیں اور جب روس کی جنگ ہوئی تو یہی لوگ مجاہدین تھے۔

فضل خلیل، یو اے ای: میرے خیال سے یہ لوگ اسلام کے رکھوالے ہی۔

سید محمد عاطف، مالیر، کراچی: مشرف صاحب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اور ان لوگوں نے اسلام کی خاطر پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں۔

حمیداللہ، پاکستان: میرے خیال میں یہ کام افغان جنگ سے پہلے ہوتا تو اس میں کوئی حرض نہیں تھا اور سارے بخوشی رجسٹریشن کرواتے اور کوئی بھی حکومتِ پاکستان کی مخالفت نہیں کرتا۔ لیکن چونکہ یہ کام امریکہ کی ایماء پر ہورہا ہے اس لئے سارے قبائل بھی اس کے خلاف ہے۔

کمال مہاجر، لندن: پٹھان جان دے دینگے لیکن انہیں حکومت کے حوالے نہیں کرینگے۔

این خان نورو، پاکستان: شاید مشرف اور آئی ایس آئی والے یہ بھول چکے ہیں کہ روس کے وقت یہ لوگ مجاہد تھے، اب ٹیرورسٹ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایس آئی والے امریکہ کے لئے جہاد کرتے ہیں۔

ہمیں ان پر فخر ہے
 میرے خیال میں جو لوگ اسلام کے ان مجاہدوں کو ٹیرورِسٹ کہہ رہے ہیں وہ اسلام کی تعلیمات کو نہیں جانتے۔ پاکستان کے ہر مسلمان کو ان پر فخر ہے۔
امتیاز احمد، کراچی

امتیاز احمد، کراچی: میرے خیال میں جو لوگ اسلام کے ان مجاہدوں کو ٹیرورِسٹ کہہ رہے ہیں وہ اسلام کی تعلیمات کو نہیں جانتے۔ پاکستان کے ہر مسلمان کو ان پر فخر ہے۔ یہ مجاہدین سب سے پہلے پاکستان پر نہیں سب سے پہلے اسلام پر یقین رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف لڑنا آسان نہیں ہے۔

عارف عالم، کراچی: رجسٹریشن کروانا غیرملکیوں کے لئے فرض ہے۔ مگر یہاں رجسٹریشن کروانا یہاں ’’آ بیل مجھے مار‘‘ والی بات ہے۔

سید شہزاد، کراچی: پاکستان کی آرمی کی اکثریت ان مجاہدوں سے لڑنا نہیں چاہتی، قبائل اگر ان کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے تو یہ ان کی تباہ و بربادی کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ رجسٹریشن کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات امریکہ کے حوالے نہیں کی جانی چاہئے، اس بات کی کیا گارنٹی ہے؟

جاوید، جاپان: ان لوگوں کی رجسٹریشن ہونی چاہئے اور ساتھ ان لوگوں کی بھی پکڑ ہونی چاہئے کہ اپنے مفادات کے لئے ان کو جعلی آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ دیتے ہیں۔ اصل فسادات کی جڑ تو وہ ہیں۔

اصغر خان، چین: پاکستان میں چرس، افیون، ہیروئین اور اسلحہ ان ہی علاقوں سے داخل ہوتا ہے۔

اظہر حسن، لاہور: ان غیرملکی مجاہدوں کا رجسٹریشن نہیں کرنا چاہئے کیونکہ امریکہ کے ایجنٹ پرویز مشرف کی حکومت ان کی ڈی این اے اور فنگر پرنٹس لیکر ان کے فیملی تک پہنچ جائے گی اور پھر ان کے ذریعے مجاہدین کو دباؤ میں لاکر گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔

کاشف صدیقی، کراچی: یہ مجاہدین کی وہ جماعت ہے جس کے لئے ہمارے پیارے رسولِ پاک نے فرمایا ہے کہ مومنین کی ایک جماعت قیامت تک اللہ کی راہ میں جہاد کرے گی۔ تمام امت مسلمہ کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

اپنی فیملی کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
 میرے خیال میں غیرملکیوں کو یہاں رہنے دینا چاہئے، لیکن ان کی رجسٹریشن کرائی جائے۔ یہ اس لئے کہ ان کے یہاں رشتے ہوئے ہیں، وہ بیوی بچوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
محمد رضوان، لاہور

محمد رضوان، لاہور: میرے خیال میں غیرملکیوں کو یہاں رہنے دینا چاہئے، لیکن ان کی رجسٹریشن کرائی جائے۔ یہ اس لئے کہ ان کے یہاں رشتے ہوئے ہیں، وہ بیوی بچوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ لیکن ان سے ملنے والی معلومات پاکستان میں راز رہنی چاہئے، یہ یاد رہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل نہیں ہوسکتا کیوں کہ ہم پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں، سفارتی طریقے سے۔

مقصود قریشی، میرپور: ان غیرملکیوں کا رجسٹریشن ہونا چاہئے۔ لیکن ان کو ملک سے نکالنے کی بات درست نہیں ہے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ ان کو ملک سے نکالنے کے لئے کہنے والے شکست خردہ اور کم ظرف انسان ہیں۔ ان کو انسانی حقوق کے تحت پاکستان میں مشروط طور پر رہنے کی اجازت دی جائے۔ اور یہ دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ مجاہدین اسلام ہیں۔ ان کو دہشت گرد کہنے والے اسلام کی تعلیمات صحیح طور پر نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ اسلام کے محافظ ہیں۔

فیاض خان، اٹک: میرے خیال میں ان لوگوں نے اسی کے عشرے میں پاکستان کے لئے لڑائی کی روس کے خلاف۔ اب وہ وزیرستان میں بس گئے ہیں، ان کی فیملی ہے، ان کے تعلقات ہیں، رشتے دار ہیں، مقامی لوگوں سے شادیاں ہوچکی ہیں۔ ان کے لئے کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔

خانم سومرو، کراچی: میرے خیال سے قبیلوں کو ان غیرملکیوں کے لئے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاناچاہئے اور ان غیرملکیوں کو حکومت کے حوالے کردینا چاہئے۔ ٹھیک ہے کہ پٹھانوں جیسا کوئی مہمان نواز نہیں ہوتا اور یہ لوگ مہمان کے لئے اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں، حکومت کو بھی چاہئے کہ ان سے ہتھیار کی زبان نہ بولے بلکہ مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے۔

ز علی، شارجہ: پاکستان کو سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں جہالت ختم کرنی چاہئے، اس کے بعد روڈ، اسپتال، صاف پانی، ڈاکو راج کا خاتمہ، اور دیگر اہم مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔

محمد اسلم نجف، یو اے ای: حکومت ان لوگوں کو محفوظ راستہ دے تاکہ وہ جاسکیں۔ وہ ڈرے ہوئے ہوسکتے ہیں۔

تارکین وطن کا اہم کردار
 جس طرح امریکہ میں کروڑوں تارکین وطن آئے اور اس کی ترقی میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا اسی طرح ملک میں کسی نہ کسی سطح پر غیرملکی موجود ہیں۔
عبدالعلیم، ناگویا

عبدالعلیم، ناگویا: جس طرح امریکہ میں کروڑوں تارکین وطن آئے اور اس کی ترقی میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا اسی طرح ملک میں کسی نہ کسی سطح پر غیرملکی موجود ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کبھی دین کی خاطر جہاد نہیں کیا، چاہ وہ ضیاء الحق کے دور میں سوویت یونین کے خلاف جنگ ہی کیوں نہ ہو، تمام حکومتوں نے امریکہ کے لئے جہاد کیا۔

احمد راجہ، اٹلی: ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ نام لکھوانے سے کچھ نہیں ہوگا، اور دن بہ دن مطالبے سامنے آئیں گے۔ ’’پاک۔بش‘‘ آرمی کی طرف سے ۔۔۔

امان اللہ، بینگکاک: میری رائے میں یہ لوگ حکومت پاکستان کے ساتھ رجسٹریشن کرائیں۔ اور اگر وہ رجسٹریشن نہیں کرانا چاہتے ہیں تو وہ ملک چھوڑیں۔ یہ حکومت کے لئے اب ناممکن ہے کہ انہیں یہا رہنے دے، یہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کے خلاف ہوگا۔

صائمہ تبسم، لاہور: میرے خیال میں غیرملکیوں کو رجسٹریشن کروانا چاہئے۔ ہر ملک کا قانون ہے کہ غیرملکیوں کو رجسٹریشن کرانی پڑتی ہے۔

نامعلوم: انہیں پاکستان سے بھگائیں۔

کامران خان، کراچی: غیرملکیوں کو ہمارے ملک سے فوری طور پر نکال دینا چاہئے۔ یہ سب دہشت گرد ہیں، ان لوگوں کی وجہ سے گزشتہ بیس سال سے پاکستان کے اندر اور پوری دنیا میں دہشت گردی ہورہی ہے۔ ان کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے کیونکہ پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیم ان کے آلہ کار ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد