BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 06:02 GMT 11:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکیوں کے اندراج پر تعطل
News image
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کے ناموں کے اندراج کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق معاہدہ شکئی کے بعد ایک اور معاہدہ جسے معاہدہ وانا کے نام دیا جا رہا ہے پیش کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس نئے معاہدے پر تاحال کس نے دستخط نہیں کئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت غیر ملکیوں کو اس شرط پر پاکستان میں رہنے کی اجازت ہو گی کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں بند کر دیں۔

حکومتِ پاکستان نے اس معاہدے میں رابطہ کاری کرنے والوں قبائیلیوں کو مزید وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ خاطر خواہ پیش رفت میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی شدت پسند قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں جنہوں نے مارچ میں جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائیوں کے خلاف سخت مزاحمت کی تھی۔ پاک فوج ان شدت پسندوں کو کچلنے کے لئے اقدامات کر رہی تھی جن پر القاعدہ سے تعلق الزام تھا۔

اطلاعات کے مطابق مقامی قبائلی غیر ملکی شدت پسندوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں ازبک، چیچن اور افغان باشندے شامل ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں انتظامی امور کے ایک اہلکار عصمت اللہ گنڈاپور نے جمعہ کو ایک سو بزرگ قبائلیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔

معاہدہ وانا کے مطابق علاقے میں موجود تمام غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہو کر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنے ناموں کا اندراج کرانا ہوگا۔ ان غیر ملکیوں کو اپنی تصاویر بھی پیش کرنا ہوں گی اور ان کے انگوٹھے کے نشانات بھی لیے جائیں گے۔

اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو یہ بیان دینا ہوگا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

معاہدے میں شامل ایک شق کے مطابق جب بھی ضرورت پڑے گی ان غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ اگر یہ غیر ملکی ایسا کرنے میں ناکام رہے تو حکومت ضامن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے گی۔

اس سے قبل جمعرات کو زلئی خیل قبائل کے لشکر نے غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی کو تین دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد