غیر ملکیوں کے اندراج پر تعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کے ناموں کے اندراج کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق معاہدہ شکئی کے بعد ایک اور معاہدہ جسے معاہدہ وانا کے نام دیا جا رہا ہے پیش کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس نئے معاہدے پر تاحال کس نے دستخط نہیں کئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت غیر ملکیوں کو اس شرط پر پاکستان میں رہنے کی اجازت ہو گی کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں بند کر دیں۔ حکومتِ پاکستان نے اس معاہدے میں رابطہ کاری کرنے والوں قبائیلیوں کو مزید وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ خاطر خواہ پیش رفت میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی شدت پسند قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں جنہوں نے مارچ میں جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائیوں کے خلاف سخت مزاحمت کی تھی۔ پاک فوج ان شدت پسندوں کو کچلنے کے لئے اقدامات کر رہی تھی جن پر القاعدہ سے تعلق الزام تھا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی قبائلی غیر ملکی شدت پسندوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں ازبک، چیچن اور افغان باشندے شامل ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں انتظامی امور کے ایک اہلکار عصمت اللہ گنڈاپور نے جمعہ کو ایک سو بزرگ قبائلیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ معاہدہ وانا کے مطابق علاقے میں موجود تمام غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہو کر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنے ناموں کا اندراج کرانا ہوگا۔ ان غیر ملکیوں کو اپنی تصاویر بھی پیش کرنا ہوں گی اور ان کے انگوٹھے کے نشانات بھی لیے جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو یہ بیان دینا ہوگا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ معاہدے میں شامل ایک شق کے مطابق جب بھی ضرورت پڑے گی ان غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ اگر یہ غیر ملکی ایسا کرنے میں ناکام رہے تو حکومت ضامن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے گی۔ اس سے قبل جمعرات کو زلئی خیل قبائل کے لشکر نے غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی کو تین دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||