وانا: قبائلی لشکر کو مزید مہلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بدھ ایک مرتبہ پھر جنوبی وزیرستان کے قبائل کو اپنا علاقہ القاعدہ اور اس کے حامیوں سے پاک کرنے کے لئے دی گئی مہلت میں مزید دس روز کی توسیع کر دی ہے۔ حکومت نے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر وانا بازار میں یارگل خیل قبائل کی دوکانیں بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ گزشتہ فوجی کارروائی میں گرفتار پانچ افراد کو رہا بھی کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قبائلیوں کو دس روز کی مزید توسیع اس تنبیہ کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ یہ سلسلہ زیادہ مدت تک اس طرح نہیں چل سکتا۔ تمام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین پر مشتمل جرگے کو پشاور میں گورنر سرحد لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید افتخار حسین شاہ نے بتایا کہ قبائلیوں کو اس مدت کے دوران پیش رفت ظاہر کرنی ہوگی۔ اس موقعے پر کور کمانڈر پشاور اور انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور بھی موجود تھے۔ جرگے نے حکومت سے القاعدہ کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب پانچ افراد کی معافی کا مطالبہ بھی کیا جس پر حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے غیر مشروط طور پر اپنے آپ کو لشکر کے حوالے کرنا ہوگا جس کے بعد اس پر غور ہوگا۔ اس جرگے میں خیبر ایجنسی کے ملک وارث خان بھی شامل تھے انہوں نے اپنے مطالبے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا وہ ان پانچ افراد پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا آئندہ دس روز حکومتی مطالبات پورے کرنے کے لئے کافی ہونگے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک دو روز کا کام نہیں لیکن وہ اپنی سی پوری کوشش کریں گے۔ جرگے نے حکومت سے قبائلیوں کے کاروبار پر سے پابندی اٹھانے، بےگناہ افراد کی رہائی اور خاصہ دار فورس کی تنخواہیں بحال کرنے کے مطالبات بھی کئے۔ تقریبا دو ہزار مسلح افراد پر مشتمل لشکر بھی واپس وانا پہنچ چکا ہے۔ لشکر نے کل تین روز کے لئے اپنی کارروائی معطل کر دی تھی تاکہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے حالات سازگار بنائے جاسکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||