BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگہ ناکام، لشکر کشی کا امکان
News image
جنوبی وزیرستان میں مطلوبہ افراد کے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد زلی خیل قبائل کی لشکرکشی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

زلی خیل قبائل نے مطلوبہ افراد کو 18 اپریل کو شام تک ہتھیار ڈالنے کی معیاد دی ہے۔ لیکن اگر مقررہ وقت تک مطلوبہ افراد ہتھیار نہیں ڈالتے توزلی خیل کا دو ہزار کا لشکر کارروائی کرے گا۔

لشکر کے کمانڈر اللہ گئی نے کہا ہے کہ حکومت کو مطلوب افراد کے علاوہ اگر کسی دوسرے نے لشکر کی کارروائی کے دوران مذکورہ افراد کا ساتھ دیا تو دس لاکھ جرمانہ اور ان کے مکانوں کو مسمار کئے جانے کے علاوہ انہیں علاقے سے بھی بے دخل کر دیا جائے گا۔

مطلوبہ افراد کی طرف بھیجا گیا زلی خیل کا جرگہ اس وقت ناکام ہو گیا جب زلی خیل قبائل کا پندرہ ارکان پر مشتمل ایک نمائندہ جرگہ وانا سے بیس کلومیٹر واقع گورگورہ میں حکومت کی شرائط لے کر پہنچا۔

اس جرگے کی قیادت ملک بسم اللہ خان، ملک با خان، ملک اجمل خان اور خان زادہ کر رہے تھے۔

جرگہ کی طرف سے ملک با خان نے مطلوبہ افراد کے سامنے حکومتی حکومتی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مطابق اگر متعلقہ قبیلہ کےمشیران غیر ملکیوں کی نیک چلنی کی ضمانت دیتے ہیں تو حکومت کو قبول ہے بصورت دیگر ایجنسی کی سرزمین سے نکل جائیں۔

اس کے جواب میں مطلوبہ افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ محمود نے کہا کہ ہم مجاہد ہیں۔ پاکستان، امریکہ کا حکم مانتا ہے اور ہم اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ ہم اللہ کے قرآن، حدیث اور اسلامی روایات کے بغیر کوئی بھی شرط ماننے کو تیار نہیں کیونکہ ہم اللہ کا حکم نہیں ٹال سکتے۔

اس موقع پر مطلوبہ کمانڈر نیک محمد نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے، ہمارے گھروں کو تباہ کیا اور جائیدادیں تباہ و برباد کر دیا۔ اس لئے اب ہم کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

انہوں نے قبائلی لشکر کو بھی خبردار کیا کہ اگر کسی نے لشکر کی کارروائی میں حصہ لیا تو تو لشکر کشی کے دوران انہیں پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری ان پر ہو گی۔

مطلوبہ افراد کے ساتھ تمام قبائلی ایجنسیوں کے عمائدین اور زلی خیل کے مذاکرات کی ناکامی کے اعلان کے بعد وانا میں قبائلی طلباء نے بھی مظاہرہ کیا جس میں دیگر سماجی کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔

مظاہرین وانا کے بازار سے ہوتے ہوئے بازار کے مغربی سرے پر پہنچے جہاں یہ مظاہرہ جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔

جلسے میں شامل ایک طالب علم محمد نواز نے کہا کہ حکومت مزید آپریشن کرنے سے گریز کرے کیونکہ ایسی کارروائی سے مطلوبہ افراد نہیں بلکہ بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی ترقی سے خوش ہوتے ہیں اور جب دنیا میں اسلحہ کی دوڑ میں پاکستان کا نام لیا جاتا ہے تو ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ علم نہ تھا کہ حکومت یہ اسلحہ اپنے بےگناہ قبائلیوں پر استعمال کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے قبائلیوں کے ساتھ یہی سلوک جاری رہا تو وہ کسی دوسرے ملک کے سارتھ شمولیت کا اعلان کریں گے۔

جلسے سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ وانا آپریشن کے دوران بےگناہ اور بےقصور لوگوں کو گرفتار کیا گیا اس لئے انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے لیکن مذاکرات کی دوبارہ ناکامی کی خبر سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد