وانا: حکومت کی ’ کامیابی‘ پر شبہات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بارہ روز جاری رہنے والی فوجی کارروائی کو ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے اعظم ورسک کے علاقے سے ہزاروں فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ تاہم القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ کارکنوں اور ان کی مدد کرنے والے پاکستانی قبائلیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کی غرض سے جنوبی وزیرستان کے دارالحکومت وانا میں فوج موجود رہے گی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ علاقے میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران القاعدہ نیٹ ورک کے انٹیلی جنس چیف ’عبداللہ‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کی شناخت کے بارے میں خاصے شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ القاعدہ کے مطلوب ترین افراد کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کے جنوبی وزیرستان کے حوالے سے دیگر وزراء اور فوجی ترجمانوں کی طرف سے کئے گئے کامیابی کے دعووں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ فوج ’اہم اہداف‘ کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ ابتداءً پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے ’اہم اہداف‘ کی موجودگی کے امکان کا حوالہ دیئے جانے کے باعث ایسی خبریں منظرِعام پر آنے لگی تھیں کہ اسامہ بن لادن یا ان کے نائب ایمن الظواہری غالباً اسی علاقے میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ علاقے میں آئے ہوئے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو اس وقت مایوسی کا سامنا ہوا جب یہ بات واضح ہو گئی کہ القاعدہ کے رہنما یہاں موجود نہیں ہیں۔ تاہم جنوبی وزیرستان میں کی گئی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے ڈیڑھ سو افراد میں ساٹھ فوجی بھی شامل تھے۔ مبینہ شدت پسندوں نےگوریلا جنگی حربے استعمال کرتے ہوئے عسکری فضیلت کی حامل فوج کو نقصان پہنچایا اور مقامی قبائلیوں کی مدد سے محاصرہ توڑ ڈالا۔ بالآخر حکومت کو قبائلی معتبرین اور مذہبی علماء سے کہنا پڑا کہ وہ بارہ نیم فوجی سپاہیوں کی رہائی میں مدد کریں جنہیں مبینہ شدت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔ حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائی کے دوران اٹھارہ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ’غیر ملکی دہشت گردوں‘ کو گرفتار کیا گیا لیکن حکام نے ان کی تعداد واضح نہیں کی اور نہ ہی انہیں پریس کے سامنے پیش کیا گیا جس کے باعث شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا۔ گرفتار کئے جانے والے ایک سو تریسٹھ مشتبہ افراد میں زیادہ تر دیہاتی تھے اور بظاہر بیشتر کو ضروری پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||