’وانا: کارروائی کا مرحلہ مکمل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے ترجمان جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ وانا میں جاری کارروائی کا ایک مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور علاقے کا گھیراؤ بھی ختم ک دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک بیان کہا کہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک غیر ملکی عناصر کا علاقے سے خاتمہ نہیں ہو جاتا کارروائی جاری رہے گی۔ بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کارروائی کے بنیادی مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں جن کا مقصد قبائلی علاقے میں ’دہشتگردوں‘ کے ڈھانچے کا خاتمہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں اور ان کے لئے از سر نو منظم آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر ملکی عناصر کو پناہ دینے والے پاکستانیوں کے لئے بھی آزادانہ گھومنا پھرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران فوج کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں میں فوج شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے پوری طاقت کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ شوکت سلطان نے کہا کہ قبائلی علاقے میں بلا جواز گھر اور دکانیں تباہ نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ قبل لوگوں کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ غیر ملکی ’دہشت گرد‘ عناصر پشت پناہیبند کر دیں لیکن یہ لوگ باز نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ گھر اور دکانیں سزا دینے کے پرانے قبائلی قانون کے تحت تباہ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ تنبیہ کے باوجود ’دہشتگردوں‘ کا ساتھ دینے پر مصر تھے اور باز نہیں آرہے تھے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ اگر کچھ گھر مسمار کرنے سے ملک بچ سکتا ہے تو یہ بری تجویز نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||