وانا:ہلاک شدگان کی تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں بدھ کو وانا میں جاری آپریشن کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نےبھرپور احتجاج کرتے ہوئے آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عمل اور حزب اختلاف کی دیگر چھوٹی جماعتوں نے احتجاج کے بعد واک آؤٹ بھی کیاجس میں پاکستان پیپلز پارٹی نےحصہ نہیں لیا۔ وقفۂ سوالات ختم ہوتے ہی مسلم لیگ(ن) کے رکن راجہ نادر پرویزکھڑے ہوگئے اور انہونے کہا کہ پارہ چنار‘ بنوں اور دیگر علاقوں میں فوجی چھاؤنیوں پر حملے ہورہے پشاور میں راکٹ گر رہے ہیں اورفوجیوں کی لاشیں آرہی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ’فوجیوں کی لاشیں بنا اعزاز کے دفنائی جا رہی ہیں جس پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ حکومت اسمبلی کو اعتماد میں لے۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے کہا کہ حکومت جمعرات کو دو گھنٹے بحث کرائے گی لہذا جس کو بھی بولنا ہے وہ اس موقعہ پربولے۔ سپیکر کی بات مسترد کرتے ہوئےمتحدہ مجلس عمل کے ارکان بھی کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا کہ آج ہی بحث کرائی جائے۔ سپیکر نے ان کی بات نہیں مانی اور اجلاس کچھ دیر کیلئے ملتوی کرکے حزب اختلاف کے ارکان کو چیمبر میں بلایا۔ چیمبر میں طے ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے راجہ پرویزاشرف‘مجلس عمل کے مولانا محمد خان شیرانی جبکہ چھوٹی جماعتوں کی جانب سے محمود خان اچکزئی نکتہ اعتراضات پر مختصر بات کریں گے۔ دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وانا سے ایک فوجی زاھد محمود کی لاش ان کے علاقےگجر خان میں پنہچی تھی جنازے میں کوئی سرکاری آدمی شریک نہ تھا نہ ان کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا جس پر لوگ سیخ پا ہوگئے۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ پہلے تو یہ ایوان دہشت گردی کی وصف طے کرے کہ کون دہشت گرد ہے؟ انہوں نے کہا کہ وانا آپریشن اب بنوں اور پشاور تک پہنچ گیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ فوج نے پشتونوں پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور عوام میں جنگ ہونے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے‘ وانا آپریشن کے بارے میں پالیسی اسمبلی بنائے نہ یہ اختیار فوج کو ہو۔ انہوں نے فوری طور پر وانا آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا اور سپیکر پر زور دیا کہ وہ آپریشن بند کرنے کی رولنگ دیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس ایوان کا ہر رکن چار لاکھ لوگوں کا نمائندہ ہے لیکن اس ایوان کو اعتماد میں نہیں لیاگیا ’ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت بند کمرے میں اجلاس بلاکر سب کواعتماد میں لیتی۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطرناک حالات سے دوچار ہے امریکہ کی بات نہ مانی تو وہ بمباری کریں گے اور القائدہ کو مارا تو وہ بھی ماریں گے۔ محمود خان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار وغیرہ میں بارہ فوجی نہیں پینتالیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں، حکومت معلومات چھپا رہی ہے۔ سپیکر نے تمام نکتہ اعتراضات مسترد کردیئے۔
پیٹرولیم کے وفاقی وزیر نوریز شکور نے حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وانا آپریشن کے متعلق اسمبلی اور عوام سے کوئی بات نہیں چھپائی‘ روزانہ فوجی ترجمان بیان دیتا ہے جمعرات کو جب بحث ہوگی تو حکومت تمام معلومات ایوان میں پیش کرےگی۔ اس کے بعد جب بعض ارکان نے بولنے کی اجازت مانگی تو سپیکر نے انہیں منع کردیا جس پر مجلس عمل کے ارکان نے احتجاجی طور پر واک آؤٹ کیا جس میں محمود خان کے علاوہ مسلم لیگ(ن) کے بیشتر ارکان بھی شریک ہوئے لیکن پیپلز پارٹی نے حصہ نہیں لیا اور ان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے بھی کچھ ارکان بیٹھے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||