BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے: وانا آپریشن کی مخالفت

وانا
مجلس عمل وانا آپریشن کے خلاف ملک بھر میں جمعہ کے روز مظاہرے کرے گی
متحدہ مجلس عمل بلوچستان نے وانا میں فوجی آپریشن کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ تنظیم کے قائدین نے کہا ہے کہ مجلس عمل ملک بھر میں جمعہ کے روز مظاہرے اور آئندہ ماہ سے عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی۔

سائنس کالج کوئٹہ کے آڈیٹوریم میں مجلس عمل کے زیر اہتمام وانا کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مجلس عمل کے قائم مقام جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد صوبائی وزیر بلدیات حسین احمد شرودی اور مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی اتخابی مہم کے لیے حکومت نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی کاروائی شروع کر دی ہے جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

حافظ حسین احمد نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ماضی میں پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں کارروائی کی تھی جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اب ایک مرتبہ پھر اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے خلاف مجلس عمل جمعہ کے روز ملک گیر مظاہرے کرے گی اور اگلے ماہ سے عوامی رابطہ مہم شروع کرےگی۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق سے نکلنا چاہتا ہے لیکن اسے راستہ نہیں مل رہا۔

صوبائی وزیر بلدیات حسین احمد شرودی نے کہا ہے کہ وزارتیں اور حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں لیکن حکومت کی خاطر وہ اپنے لوگوں کی حمایت اور پشت پناہی ترک نہیں کر سکتے انھوں نے کہا ہے کہ مشرقی پاکستان پر یلغار کے نتیجے میں ملک کے دو ٹکڑے تو ہو گئے لیکن بنگالیوں کو فتح نہیں کیا جا سکا۔ اب قبائلی علاقوں میں کارروائی سے کیا ملے گا کیونکہ بنگالی آج بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں اور ان کا اپنا وطن ہے۔

عبدالحق ہاشمی نہ کہا ہے کہ جو مہم وانا میں جاری ہے اسی طرح کی مہمات غاصب حکمرانوں نے اپنی مسلمان رعایا کے خلاف دنیا بھر میں شروع کر رکھی ہیں۔

یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بلوچستان کے ضلع ژوب سے فوجی اور نیم فوجی دستوں کو پاک افغان سرحد کی طرف روانہ کیا گیا ہے تاکہ وانا میں جاری آپریشن سے بھاگ کر مطلوب افراد ان علاقوں کی طرف نہ آجائیں۔

صوبائی وزیر بلدیات سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہماری ہے اور پاکستانی فوج کہیں بھی جا سکتی ہے۔

ضلع ژوب کی سرحدیں صوبہ سرحد کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان جنوبی وزیرستان ایجنسی اور افغانستان کے ساتھ مشرق اور شمال مشرق میں ملتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد