پاکستان میں فوجی اہداف پر حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر حملے میں خدشہ ہے کہ گیارہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حکام نے صرف واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن نقصان کے بارے میں بتانے سے گریز کیا ہے۔ یہ تازہ حملہ اطلاعات کے مطابق سوموار کو سہ پہر دو بجے کے قریب جنڈولہ وانا شاہراہ پر سروکئی کہ مقام پر پیش آیا۔ چند نامعلوم افراد نے گھات لگا کر راکٹوں سے فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں پر حملہ کیا ہے۔ حملے میں تین گاڑیوں کے تباہ ہونے کی بھی خبر ہے۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ وہ نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں مذکورہ سڑک کئی گھنٹوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی تھی۔ اس حملے میں ایک آئل ٹینکر کے تباہ ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد میں علاقے میں کئی ہیلی کاپٹروں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا۔ اس سے پہلے اتوار کی رات نامعلوم افراد نے کئی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے تھے۔ وانا کے رہائشیوں کے مطابق نامعلوم افراد نے رات سوا تین بجے ژڑی نور کیمپ پر حملہ کیا جو تقریبا دو گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران عینی شاہدوں کے مطابق دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں حفاظتی امور کے سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے پیر کو پشاور میں صحافیوں کو بتایا کہ انہیں شک ہے غیرملکی علاقے سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں اور رات کے حملوں کا یہی مقصد ہوسکتا ہے۔
حکام کو علاقے کی تلاشی کے دوران کئی غار ملے ہیں جن میں سے ایک دو کلومیٹر لمبا ہے۔ حکام کو شک ہے کہ القاعدہ کے مشکوک افراد نے اِن کے ذریعے فرار کی کوشش کی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ انسان کے بنائے ہوئے یہ غار دو مطلوب قبائلیوں نیک محمد کے مکان سے لے کر شریف کے مکان سے ہوتے ہوئے ایک نالے میں ختم ہوتے ہیں۔ محمود شاہ نے کسی عارضی جنگ بندی یا مطلوب افراد کو دو دن کی مہلت کی خبروں کو غلط قرار دیا اور کہا کہ صرف اس علاقے میں جہاں پیر کو یارگل خیل قبیلے کے بائیس مشیران پر مشتمل ایک جرگہ مطلوب افراد سے مذاکرات کے لئے گیا ہے وہاں فائرنگ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فوجی کاروائی کو اس کے منتقی اختتام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی میں ایک ٹیلیفون ایکسچینج بھی ملا ہے۔گرفتاریوں کا تازہ شمار بتاتے ہوئے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک سو تئیس افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں جِن میں وہ اڑسٹھ افراد بھی شامل ہیں جِن کو قبائلیوں نے خود گزشتہ دنوں حکام کے حوالے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بارہ سپاہی اور دو تحصیلداروں کے بارے میں اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے اور اس کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا وہ مزاحمت کرنے والوں کے قبضے میں بھی ہیں یا نہیں۔ ادھر جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ نے پیر کو باغی یارگُل خیل قبیلے کو وانا بازار میں اپنی دوکانیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے جو خیال ہے کہ سزا کے طور پر گرا دی جائیں گی۔ وانا میں قبائلی جرگے کے ذریعے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوششوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تین شرائط قبائلیوں کے سامنے رکھی ہیں۔ مزاحمت کرنے والوں سے مذاکرات کی غرض سے اعظم ورسک کے علاقے میں جانے والا جرگہ آخری اطلاعات تک واپس نہیں آیا تھا۔ جرگے میں شامل افراد کی اکثریت پیدل یا ایک گاڑی میں سفر کر رہی ہے جس پر سفید جھنڈا نصب ہے۔ یہ لوگ علاقے میں چھُپے القاعدہ کے مشتبہ حامیوں سے بات چیت کے ذریعے انہیں ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ البتہ مقامی قبائلی اس جرگے کے ساتھ کچھ ذیادہ امیدیں وابستہ نہیں کر رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||