وانا میں دوبارہ اپریشن، بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نیم خود مختار قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان میں فوجی اپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی ہے۔ وانا میں منگل کے خونی تصادم میں فرنٹیئر کور کے پندرہ جوان اور چوبیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوۓ ہیں۔ یہ گزشتہ دو سال کے دوران علاقے میں کیا جانے والا سب سے بڑا آپریشن بتایا جاتا ہے۔ فرانسیسی خبر رسان ادارے اے ایف پی نے فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے حوالے بتایا ہے کہ اب باقاعدہ اپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجی اور نیم فوجی دستوں کو صبح کے وقت کالو شاہ اور اعظم ورزک نامی گاؤں کی طرف جاتا دیکھا گیا ہے جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کو علاقے پر پرواز کرتے دکھائی دیئے۔ پہلے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھگا کہ کئی سو مقامی افراد حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوۓ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ وانا کی سڑکوں پر ایف سی کی جلی ہوئی گاڑیاں موجود ہیں ۔ وانا کے نزدیک ایک ایسی ہی گاڑی سے ایک جلی ہوئی لاش بھی ملی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اب بھی علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اسلام آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے خلاف یہ پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ہے لیکن اب تک اس میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں منگل کوقانون نافذ کرنے والے اداروں کے وانا آپریشن کے نتیجے میں عسکریت پسندوں اور نیم فوجی دستوں کے درمیان تصادم کئی گھنٹوں جاری رہا۔ آئی ایس پی آر نے منگل کو بتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی تھی جن میں میں آٹھ نیم فوجی اہلکار اور القاعدہ کے تقریباً چوبیس ارکان بتائے گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں پاک فوج کا کوئی جوان ہلاک نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ’چوبیس کے قریب مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی وانا سے دس سے بارہ کلومیٹر دور ایک علاقے میں کی گئی ہے اور اس سے عام آبادی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ پشاور میں قبائلی علاقوں کا انتظام چلانے والے فاٹا سیکریٹریٹ سے منگل کی رات جاری کئے گئے ایک مختصر سے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک اطلاع پر فرنٹیر کور کے جوانوں نے کاروائی کی جس کے دوران تصادم میں چوبیس ’غیر ملکی عناصر‘ یا االقاعدہ کے مشتبہ افراد ہلاک جبکہ ملیشا کے آٹھ اراکین مارے گئے ہیں اور پندرہ مزید زخمی ہیں۔ بیان کے مطابق صرف دو غیر ملکیوں کی لاشیں برآمد کی جا سکی ہیں۔
ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستانی فوج کی جگہ نیم فوجی دستوں یعنی فرنٹیر کور اور مقامی خاصہ دار فورس نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق فرنٹیر کور کے سینکڑوں جوانوں نے منگل کی صبح اعظم ورسک کے علاقے میں یہ کارروائی شروع کی تھی۔ یہ علاقہ حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب ان پانچ مشتبہ قبائلیوں کا ہے جنہیں اب تک حکومت گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جھڑپ کے دوران مقامی قبائلیوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہوئی۔ فریقین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا اور ہلکا اور بھاری اسلحہ استعمال ہوا۔ ایف سی کی کئی گاڑیاں بھی نشانہ بنیں اور تباہ کر دی گئیں۔ اس کارروائی میں کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ کارروائی صدر پرویز مشرف کے پشاور میں سوموار کے اس بیان کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں انہوں نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے پانچ سے چھ سو غیرملکی افراد کے چھپے ہونے کی بات کی تھی۔ اس حالیہ آپریشن کے بعد وانا کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ پاکستان نے افعانستان کے ساتھ اپنی سرحد سیل کرنے کے لئے ستر ہزار جوان تعینات کئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||