| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزید پانچ افراد انتظامیہ کے حوالے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جمعۃ کے روز مقامی قبائل نے مزید پانچ افراد انتظامیہ کے حوالے کر دیئے ہیں۔ حکومت ان افراد پر علاقے میں طالبان اور القاعدہ کے لوگوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتی ہے۔ اس طرح اب تک گزشتہ چار روز میں قبائلیوں نے مجموعی طور پر بیس افراد حکومت کے حوالے کر دیے ہیں۔ تازہ حوالے کئے گئے افراد میں دلچسپ بات ایک ایسے شخص کو حکومت کو دینا ہے جس پر کوئی الزام نہیں لیکن اس کا بھائی چونکہ حکومت کو مطلوب ہے اور وہ آج کل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ہے لہذا اس کی واپسی تک قبائلیوں نے اس کے بھائی کو حوالے کر دیا ہے۔ وانا کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ رحمت اللہ وزیر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ وہ اب تک قبائلیوں کے تعاون سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے بتایا کے ان ستاون افراد کو حوالے کرنے کے لئے انہوں نے قبائلیوں کو کوئی ڈیڈ لائن نہیں دے رکھی۔ جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل نے گزشتہ دنوں حکومت کو ایک جرگے میں یقین دلایا تھا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے اراکین کے خلاف علاقے میں خود لشکر کشی کریں گے۔ اس سلسلے میں حکومت نے جرگے کو ستاون مطلوب افراد کی فہرست دی تھی۔ جواب میں حکومت نے قبائلیوں کو یقین دلایا کہ اس کے حوالے کئے جانے والے افراد کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف تحقیقات وانا میں ہی کی جائیں گی۔ پاکستان فوج نے اعظم ورسک کے علاقے میں گزشتہ دنوں ’غیرملکی دہشت گردوں’ کے خلاف ایک کاروائی کی تھی لیکن فوجی ذرائع اس دوران کسی غیرملکی کی گرفتاری سے انکار کرتے رہے ہیں جبکہ وفاقی وزیر داخلہ کئی غیرملکیوں کی ممکنہ گرفتاری کا دعوٰی کرتے ہیں۔ اس کاروائی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی وانا میں ایک فوجی کیمپ پر حملے میں چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر ٹانک شہر میں آج محسود قبائل نے حکومت کو ایک جرگے میں یقین دلایا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو علاقے میں نہیں چھوڑیں گے جس پر پنجاب کے وزیر نعیم اللہ شاہانی کے اغوا کا شک ہو اور اس کے خلاف خود کاروائی کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||