وانا میں بم دھماکہ، دو زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صدر مقام وانا کے مرکزی بازار میں جمعرات کے روز ایک بم دھماکے میں دو قانون نافذ کرنے والے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ وانا میں حکام کا کہنا ہے کہ صبع دس بجے کے قریب ریمورٹ کنٹرول سے چلائے گئے اس بم سے دو خاصہ دار معمولی سے زخمی ہوئے ہیں۔ بم جو رستم بازار میں خاصہ داروں کی ایک گاڑی کے پاس رکھا گیا تھا کہ پھٹ پڑا۔ دھماکے سے گاڑی کا ٹائر تباہ ہوگیا۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ کاروائی گزشتہ روز وانا میں سولہ قبائلی سرداروں کی گرفتاری کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ یارگل خیل اور کا کاخیل سے تعلق رکھنے والے ان سرداروں کو القاعدہ اور طالبان کے علاقے میں چھپے افراد کی گرفتاری میں عدم تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان اقوام سے حکومت نے ان مشتبہ افراد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن پر حکام کو القاعدہ اور طالبان کے اراکین کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ حکومت نے اس سے قبل بھی یارگل خیل قبیلے پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اس کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے وانا کے رستم بازار میں ان کی متعدد دوکانیں، پیٹرول پمپ اور دوسرے کاروباری مراکز کو بند کر چکی ہے۔ وانا میں حفاظتی تدابیر پہلے ہی کافی سخت ہیں۔ لیکن علاقے میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جمرات کے روز مزید فوجی اور نیم فوجی دستوں کو وانا کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||