BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 March, 2004, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: سولہ سردار گرفتار

قبائلی علاقوں پر فوج پر حملے بھی جاری ہیں
قبائلی علاقوں پر فوج پر حملے بھی جاری ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام نے جمعرات کے دن انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے عدم تعاون کے الزام میں سولہ قبائلی سرداروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایجنسی میں آباد احمدزئی وزیر قوم کی ذیلی شاخ یارگل خیل اور کا کاخیل کے مشیران کو حراست میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے اے پی اے وانا رحمت اللہ وزیر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار حکومت سے گزشتہ تین چار ماہ سے مذاکرات میں مصروف تھے لیکن وہ پورا تعاون نہیں کر رہے تھے۔

ان سرداروں سے حکومت نے ان مشتبہ افراد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن پر حکام کو القاعدہ اور طالبان کے اراکین کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ حکومت نے اس سے قبل بھی یارگل خیل قبیلے پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے وانا کے رستم بازار میں ان کی متعدد دوکانیں، پیٹرول پمپ اور دوسرے کاروباری مراکز کو بند کر دیا تھا۔

گرفتار کئے جانے والوں میں علی شاہ خان، خان زادہ، بسم اللہ خان، سرور خان، امان اللہ، مغلگئی، زابر خان، حلیم مینل خان، سائی جان، صدا جان، مومن، شائے جان، واریدین، داود جان اور بکا خان شامل ہیں۔ انتظامیہ نے ان کے وارنٹ جاری کر کے انہیں ڈیرہ اسمائیل خان منتقل کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں اس تازہ کارروائی سے علاقے میں حکومت اور قبائلیوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ البتہ اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ وانا رحمت اللہ وزیر کا کہنا تھا کہ اس سے کشیدگی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

’ہمارے پاس ان افراد سے ڈیل کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں سے ایک یہ گرفتاریاں بھی ہیں۔‘

اس سے قبل احمدزئی وزیر قبائل کا وانا میں ایک روایتی جرگہ منعقد ہوا جس میں ہر قبیلے نے اپنی ذمہ داری خود پوری کرنے کا عہد کیا ۔ جرگے میں سینکڑوں کی تعداد میں قبائلی سرداروں نے شرکت کی۔ بظاہر قبائلی اختلافات کا شکار نظر آتے تھے۔

دریں اثنا جنوبی وزیرستان میں فوجی اور فرنٹیر کور کی چوکیوں پر مزید حملے ہوئے ہیں البتہ ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ نامعلوم مسلح افراد نے درے نشتر کے علاقے میں فوجی جوانوں پر راکٹ لانچروں اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔ سروکئی کے علاقے سے بھی ایک سکاوٹس قلعہ پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا۔

وانا میں جمرات کے روز فوج کی فائرنگ میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں ایک ایک لاکھ جبکہ زخمیوں میں پچاس پچاس ہزار روپے تقسیم کئے گئے۔ یہ صدر مشرف کی جانب سے اعلان کردہ امداد کے علاوہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد