| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وزیرستان میں ایک چینی بھی ہلاک ہوا تھا‘
پاکستان فوج نے بتایا ہے کہ اس نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک چینی باشندے کو اکتوبر میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس بات کی تصدیق چین کے میڈیا میں چھپنے والی خبروں سے بھی ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ چین میں دہشت گردی میں ملوث مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ایک چینی باشندے کو پاکستان میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستان فوج کے مطابق حسن معصوم کو دو اکتوبر کو ہلاک کیا گیا تھا۔ چین کا کہنا ہے کہ حسن نے القاعدہ کی مدد سے ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) قائم کی تھی۔ جنوبی وزیرستان کے فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد میں سے ایک حسن معصوم بتائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل چین کے سرکاری اخبارات بیجنگ نیوز اور انٹرنیشنل ہیرلڈ لیڈر میں یہ شائع کیا جا چکا ہے کہ حسن معصوم پاکستان اور چین کی سرحد پر اپنی کارروائیاں کرتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق حسن پاکستانی اور امریکی فوجیوں کی مشترکہ فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تاہم پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ کہ آپریشن صرف پاکستان فوج نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ لاش حسن معصوم ہی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لاش پہچاننے میں چین نے اہم کردار ادا کیا۔ حسن چین کے صوبے سِنکیانگ تعلق رکھتے تھے۔ سِنکیانگ میں زیادہ آبادی ترکی بولنے والے اوئگر مسلمانوں کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ای ٹی آئی ایم سِنکیانگ میں بم حملوں اور قتل و غارت گری میں ملوث رہا ہے۔ چین نے اس گروہ کو دس برس قبل کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہ گروہ ان چار مسلم گروہوں اور گیارہ انفرادی افراد میں شامل ہے جن کے متعلق گزشتہ ہفتے چین کو مطلوب افراد کی ایک فہرست شائع کی گئی تھی۔ ان کی گرفتاری کے لیے غیر ملکی مدد کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||