| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان کے قبائلی
جنوبی وزیرستان کا قبائلی علاقہ آج کل طالبان اور القاعدہ کی خبروں کی وجہ سے عالمی توجو کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ ملک کے جنوب میں آخری قبائلی سرحد ہے لیکن شاید اسی وجہ سے باقی علاقوں سے ترقی کے اعتبار سے کافی پیچھے ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریباً نو گھنٹے جبکہ اسلام آباد سے مزید تین گھنٹے کی مسافت پر واقع اس ایجنسی میں ترقی کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایجسنی کے کئی علاقوں بشمول صدر مقام وانا میں بجلی کے کھمبے ہیں لیکن بجلی نہیں، ریڈیو اور ٹی وی سیٹ ہیں لیکن نشریات نہیں، ایجنسی کے منتظم پولیٹکل ایجنٹ کا دفتر ہے لیکن وہ خود نہیں اور کئی قبائل آباد ہیں لیکن آپس میں اتفاق نہیں۔ غرض یہ کہ مسائل کا انبار ہے لیکن حل نہیں۔ مقامی قبائل اس پسماندگی کی وجہ انگریزوں کے وقت سے چلی آرہی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔ وانا کے ایک رہائشی محمد عمر کا کہناہے کہ انگریزوں کی اس علاقے کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے کی پالیسی کو پاکستان میں اسلامی کہلانے والی حکومتوں نے بھی جاری رکھا۔ ایجنسی کے اکثر علاقے خشک پہاڑ اور میدان ہیں۔ ماضی میں اس علاقے کے بارے میں مقامی لوگ کہا کرتے تھے کہ خدا جب زمین تخلیق کر رہا تھا تو بچا کھچا ملبہ اس علاقے میں پھینک دیا۔ اب بھی یہاں رہنے والے ایک دوسرے سے مذاق میں پوچھتے ہیں کہ آپ یہاں اپنی خوشی سے رہ رہے ہیں یا کسی نے آپ کو اس پر مجبور کیا ہوا ہے۔ اس وقت ایجنسی کو جو ترقیاتی فنڈز مل رہے ہیں ان کی مقدار تو متنازعہ ہے ہی اس کی تقسیم بھی قبائلی اختلافات کا شکار ہے۔ وزیر قبیلے کو شکایت ہے۔ محمد عمر جن کا اسی قبیلے سے تعلق ہے کا کہنا تھا ’حکومت اگر علاقے میں چار سکول قائم کرے گی تو ان میں سے تین محسود جبکہ ہمیں صرف ایک ملے گا۔ اتنے بڑے وزیر علاقے میں نہ تو سکول ہیں، نہ سڑکیں اور نہ ہسپتال۔‘ سرکاری عداد وشمار کے مطابق محسود قبائل کی آبادی تقریباً دو لاکھ بیس ہزار ہے جبکہ وزیر کی اب بڑھ کر ایک لاکھ اسی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ فرق اب کم رہ گیا ہے۔ لیکن اس اعتراض پر محسود اور پولیٹکل انتظامیہ کا تقریباً ایک ہی موقف ہے۔ وانا کے اسسٹینٹ پولیٹکل ایجنٹ سید انور شاہ کا کہنا ہے کہ یہ نسلوں سے چل رہے نظام کا حصہ ہے۔ ’اسے تبدیل کرنا ’ آ بیل مجھے مار‘ کے برابر ہوگا۔ البتہ مقامی انتظامیہ تمام قبائل کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔‘ کئی لوگ موجودہ قبائلی نظام کو فرسودہ مانتے ہیں اور اس میں تبدیلی سے ہی اس علاقے کی حالت میں کوئی بہتری دیکھتے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ بھی اسی میں شامل ہے۔ سیاسی اتحاد نامی ایک مقامی تنظیم کے سربراہ نثار احمد نے کہ جن کے وارنٹ گرفتاری انہی سرگرمیوں کی وجہ سے تکمیل کے منتظر تھے مجموعی صورتحال پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک صدی پرانا قبائلی نظام اب بوڑھا ہوچکا ہے۔ ’پرانی گاڑی کے پرزے تبدیل کیے جاسکتے ہیں لیکن گاڑی تو پرانی ہی رہے گی وہ نئی نہیں ہوسکتی۔‘ بڑی سی روایتی پگڑی پہنے نثار کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ دنوں جن مقامی حکومتوں کے نظام کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور بعد میں پیچھے ہٹ گئی اس کی وجہ علاقے میں القاعدہ کے خلاف عسکری مہمات ہیں۔ ’یہ نظام تو بنا ہی قبائلی علاقوں کے لئے تھا لیکن اسے نافذ دوسری جگہ کر دیا گیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات کی بہتری کے لئے اقدامات جلد نہ اٹھائے گئے تو صورتحال کسی بڑے حادثے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||