BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 March, 2004, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موسیٰ خان پورے وانا کو سوگوار کر گیا

موسیٰ خان
موسیٰ خان (سواتی ٹوپی کے بغیر) گھر سے سوداسلف خریدنے وانا بازار کے لئے روانہ ہوا لیکن پھر نہ لوٹا
’میری ماں اپنے بیٹے کی ہلاکت کی خبر سن کر ذہنی توازن کھو چکی ہے۔ وہ پاگل ہوگئی ہے۔ میرے پاس اس کے علاج کے لئے پھوٹی کوڑی نہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں اس سے زیادہ ظلم برداشت نہیں کرسکتے‘۔

یہ دکھ بھرے الفاظ ہیں ایک ایسے بڑے بھائی کے ہیں جس نے اپنے والد کی موت کے بعد گھرکا بوجھ اٹھایا اور اپنے تین چھوٹے بھائیوں کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا اور انہیں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔

پینتیس سالہ کلہ خان وزیر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے ایک گاؤں میں اپنے ہجرے میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھا بڑے بوڑھوں کے ساتھ اپنے سولہ سالہ بھائی موسیٰ خان وزیر کی موت پر تعزیت کے لئے آنے والوں کے ساتھ بیٹھا ہے۔

موسیٰ خان کی ہلاکت کوئی عام موت نہیں تھی۔ کلہ خان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اسے اور اس کی والدہ کو شاید صبر آ جاتا۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی اس کے اپنے محافظوں یعنی پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے۔

فاتحہ
موسیٰ خان کے گھر اب بھی تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے

موسیٰ خان ان گیارہ افراد میں شامل ہے جو گزشتہ دنوں وانا کے قریب ژڑی نور فوجی کالونی کے قریب فوجیوں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ فوجی حکام نے اس واقعے کے فورًا بعد ایک بیان میں اس امکان کو تو رد نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی ہوسکتے ہیں لیکن ان کا اصرار یہی رہا کہ یہ دہشت گرد تھے۔

ژڑی نور فوجی کالونی کی عمارتیں کلہ خان کے حجرے سے بھی صاف نظر آتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی یقین نہیں آتا کہ ان کی بغل میں بیٹھے لوگ ہی ان کی تباہی کا ایک دن سبب بنیں گے۔

’ہمارا روزانہ کا راستہ ہی اس کالونی کے سامنے سے گزرتا ہے۔ ہم تو آتے جاتے یہیں سے گزرتے ہیں۔

آج کل اس کالونی کے باہر عجیب سا خوف چھایا محسوس ہوتا ہے۔ وانا سے افغان سرحد پر واقعہ قصبے انگور اڈہ جانے والا راستہ اس کالونی کے سامنے سے گزرتا ہے۔ اس کالونی کی لمبی سی دیوار سڑک کے ساتھ کافی دور تک جاتی ہے۔ اس کالونی کی حفاظت پر مامور فوجی اس کی چوکیوں میں سے نظر تو نہیں آتے لیکن ان کے جی تھری ہتھیار ضرور جھانک رہے ہوتے ہیں۔ ان کی جانب زیادہ دیکھنے سے خوف آتا ہے کہ انہیں شک پڑنے کی صورت میں کہیں ۔۔۔

اسی سڑک پر یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ فوجی گولیوں کا مبینہ طور پر نشانہ بنے والی دو گاڑیاں مسافر بردار تھیں جن پر بدقسمت موسٰی خان بھی سوار تھا۔ ’اس روز وہ صبح سویرے گھر کے لئے سوداسلف خریدنے وانا بازار کے لئے روانہ ہوا لیکن پھر نہ لوٹا۔

موسیٰ خان کی قبر
مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ فوجی گولیوں کا مبینہ طور پر نشانہ بنے والی دو گاڑیاں مسافر بردار تھیں

موسیٰ کا چچا زاد بھائی اعلٰی خان بھی ہجرے میں موجود سوگواران میں موجود تھا۔ اس نے اس سرکاری موقف کو رد کیا کہ گاڑی میں سوار افراد مسلح تھے اور فوجیوں پر گولی چلا رہے تھے۔ ’ان کے پاس تو چاقو تک نہیں تھا۔ یہ سب غلط ہے‘۔

اعلی خان نے حکومت کی جانب سے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لئے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ’اس کا مطلب تو یہ ہے کہ انسانی جان کی قیمت حکومت نے پندرہ سو ڈالر مقرر کی ہے جبکہ وہ خود ہمارے نام پر امریکہ سے لاکھوں کروڑں ڈالر لے رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ صدر مشرف اتنی رقم کا کیا کریں گے‘۔

موسی خان نے اس علاقے کے اکثر لوگوں کی طرح کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رکھی تھی۔ اس کا اکثر وقت گھر پر ہی گزرتا تھا۔

’وہ انتہائی شریف لڑکا تھا۔ گھر میں سب کا لاڈلہ۔ میں اسے اکثر کہا کرتا تھا کہ تمہارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں تم کوئی کام نہیں کرو گے۔ جب تک میں زندہ ہوں۔ لیکن مجھے کیا معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے چلاجائے گا‘۔ اس کے بھائی کلہ خان نے پرنم آنکھوں کے ساتھ بھاری سی آواز میں کہا۔ ’اس کی ماں اب بھی اس کا بازار سے لوٹنے کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ کاش ایسا ممکن ہوتا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد