قومی اسمبلی: وانا آپریشن پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وانا سمیت قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے خلاف قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز حزب اختلاف نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور فوج پر کڑی تنقید کی۔ تاہم حکومت نے حزب اختلاف کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ البتہ حزب اختلاف نے حکومتی رویے کے خلاف علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ وقفہ سوالات کے بعد قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان قومی اسمبلی مولانا محمد معراج الدین، مولانا عبدالمالک، صاحبزادہ ہارون رشید، مولانا غلام محمد صادق اور مولوی محمد صادق نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی توجہ عوام میں گہری تشویش کا باعث بننے والے معاملے کی جانب دلائیں گے جو وانا آپریشن کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے متعلق ہے۔
وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے تین ماہ قبل قبائلی عمائدین سے کہا تھا کہ غیر ملکی دہشت گردوں سے علاقے کوپاک کیا جائے اور مطلوبہ افراد کی فہرست قبائل کو فراہم کی جائے جس کے بعدیہ طے ہوا تھا کہ 20 فروری تک یہ قبائل خود کارروائی کریں گے اور مطلوبہ افراد حکومت کے حوالے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈیڈ لائن گزر گئی اور مطلوبہ افراد نہ ملے تو سیکورٹی اداروں کے لئے آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس پر متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگائے جن میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ جھوٹ بول رہے ہیں اور حقائق چھپا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایوان کو مزید بتایا کہ وانا میں جاری آپریشن میں اب تک چالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 16 کنسٹیبلری کے جوان اور 24 دہشت گرد شامل ہیں جبکہ متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں فوج اور انتظامیہ کے 25 اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ دو ایف سی اہکار اغواء بھی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو نہ اچھالیں اور قبائل پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی دہشت گردوں کے آلہ کار نہ بنیں۔ توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے والے اراکین نے کہا کہ جن قبائل کے آباؤ اجداد نے پاکستان کیلئے قربائی دی ہے آج انہیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے اور اپنی ہی فوج اپنے ہی لوگ مار ہی ہے۔ تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کو قبائل میں کون لایا تھا اور حکومت اس کا جواب دے۔
متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے الزام لگایا کہ کولن پاؤل کو خوش کرنے کیلئے آپریشن کیا جارہا ہے۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کرنا چاہتی ہے قبائلی عمائدین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مل بیٹھ کر دیرپا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ وانا آپریشن کا پاؤل کے دورے سے کوئی واسطہ نہیں۔ مولانا فضال الرحمٰن نے وانا آپریشن کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے مطالبہ کیا ۔ اس موقعہ پر وزیراعظم بھی ایوان میں بیٹھے تھے اور فضل الرحمان نے انکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وانا آپریشن کی اجازت ان سے بھی نہیں لی گئی ۔ حکومت اور حزب اختلاف میں گرما گرمی جاری تھی اور جب حزب اختلاف کے دیگر ارکان کو بولنے کا موقعہ نہ ملا تو انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا جس میں پیپلز پارٹی بھی شریک ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||