BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 March, 2004, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا میں فائر بندی کے باوجود حملہ

وانا
اکا دکا مقامات پر ہلکے اسلحے سے مزاحمت جاری ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے حکومت کے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد وانا میں ایک فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔

وانا کے رہائشیوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے، جو القاعدہ کے ارکان بھی ہوسکتے ہیں رات سوا تین بجے ژڑی نور کیمپ پر حملہ کیا جو تقریبا دو گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر دونوں جانب جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یہ تازہ حملہ حکومت کی جانب سے قبائلی جرگے کو محاصرے والے علاقے میں جانے اور مزاحمت کرنے والوں سے بات چیت کے لئے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے۔ اس سے قبل حکام نے یرغمال بنائے گئے سرکاری اہلکاروں اور فرنٹیر کور کے سپاہیوں کی رہائی تک جنگ بندی سے انکار کر دیا تھا۔

لڑائی میں جمعہ کی سہ پہر سے کمی آئی ہے البتہ اکا دکا مقامات پر ہلکے اسلحے سے مزاحمت جاری ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز لڑائی میں فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دو غیرملکی، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ چیچن ہیں، ہلاک ہوگئے ہیں۔

مزید گرفتاریوں کی اطلاع نہیں ہے البتہ اتوار کو حراست میں لئے جانے والوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

اس طرح اب تک حکام کے مطابق چار روز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے غیرملکیوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔

وانا میں قبائلی جرگے کے ذریعے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوششوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تین شرائط قبائلیوں کے سامنے رکھی ہیں۔ محمود شاہ نے بتایا کہ ان شرائط میں قبائلیوں سے بارہ لاپتہ سپاہیوں اور دو تحصیلداروں کو (اگر وہ ان کے قبضے میں ہیں) حوالے کرنے، مزاحمت کرنے والوں کو ہتھیار ڈالنے اور غیرملکیوں کو علاقہ چھوڑ دینے کے مطالبات شامل ہیں۔

اخبارات میں بارہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کرنے سے انہوں نے گریز کیا اور کہا کہ یہ صرف فوجی حکام کر سکتے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیر کور کو کوئی تازہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ گرفتار افراد کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ یا ایمن الزواہری کے بارے میں معلومات درست نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے القاعدہ کا صفایا کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد