وانا: جرگہ مذاکرات کے لئے روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک قبائلی جرگہ فوج سے متحارب افراد سے مذاکرات کے لئے وزیرستان روانہ ہو گیا ہے۔ جرگے کے ایک رکن دلاور مہمند نے کہا ہے کہ وہ فوج سے لڑنے والے قبائلی افراد سے جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے۔ یہ جرگہ صرف قبائلی افراد سے ہی جنگ بندی کا کہے گا، علاقے میں موجود القاعدہ یا طالبان کے مبینہ افراد سے مذاکرات کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ دلاور مہمند کو یقین ہے کہ جرگے کی کوششوں سے لڑائی بند ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے ’قبائل کی یہ روایت ہے کہ جب کوئی جرگہ کسی کے پاس جاتا ہے تو اس کی بات مانی جاتی ہے۔ قبائلی قبائلی کی عزت کرتا ہے اس لئے ہماری بات بھی مانی جائے گی اور جنگ بند ہو جائے گی‘ دلاور مہمند نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ غیر ملکیوں کے ساتھ مقامی لوگ بھی فوج کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہیں۔ انھوں نے لڑائی کا ذمہ دار تین افراد کو ٹھہرایا ہے تاہم ان کے نام نہیں بتائے۔ جرگہ مہمند، خیبر، اورکزئی، پاراچنار اور وزیرستان سے تعلق رکھنے والے عمائدین سے بات کرے گا۔ جرگے نے پاکستانی حکام سے بھی جنگ بندی کا کہا ہے۔ فوج سے لڑنے والے قبائلی افراد کے لئے عام معافی کا اعلان کیا جائے گا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ جرگہ پچیس مارچ کو واپس آئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||