BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا والوں پر کیا بیت رہی ہے

وانا میں فوجی آپریشن
وانا میں جاری فوجی آپریشن
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گذشتہ تین روز سے القاعدہ اور طالبان کےخلاف جاری فوجی کاروائی سے علاقے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لوگوں میں خوف ہے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

لوگ بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں جبکہ کئی مقامات پر کرفیو کا سا سماں ہے۔ لوگ علاقے میں جاری لڑائی میں پھنس جانے کی خوف سے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔

بازار بند ہیں جبکہ راستوں پر سختی کی وجہ سے اعظم ورسک کے میٹرک کے طالب علم آج وانا میں امتحان بھی نہیں دے سکے ہیں۔

وانا متاثرین کے حالات
 ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں لیکن ان کی امداد کا کوئی انتظام نہیں ہوا۔ وانا کے مغرب میں دیہات پر فوج نے قبضہ کیا ہے اور مکانات کی دیکھ بحال کے لئے جو لوگ گھروں میں رہ گۓ ہیں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
افرآسیاب خٹک

سکول جیسے حساس مقامات بھی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک مقامی سکول کے پرنسپل رضا خان نے بتایا کہ اس کا سکول فوجی ہیلی کاپٹروں کی زد میں آیا جس سے سکول کے چھ سات کمروں کی چھتیں ٹوٹ گئی ہیں۔

وانا کے ایک قبائلی سردار بہرام خان نےحالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وانا سے مغرب کی جانب جانے والی سڑک پر تمام دیہات خالی ہوچکے ہیں۔ ’عورتیں، مرد اور بچے پیدل محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔ جن کے پاس پیسے ہیں وہ ٹانک اور ڈیرہ اسمائیل خان کا رخ کر رہے ہیں۔

جبکہ جو غریب ہیں وہ پہاڑوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ ہم نے پاکستان کا کیا بگاڑا تھا ہم نہ تو روس کو تباہ کیا تھا ہمیں کس بات کی سزا مل رہی ہے؟‘۔

سرکاری بیان
 ’لوگ آزادانہ طور پر آتے جاتے ہیں اور میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ سکول بھی کھلے ہیں۔ٹارگٹ ایریا سے لوگ ضرور نکلے ہیں لیکن انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے پاس ڈیرے ڈالے ہیں۔
وانا سکیورٹی اہل کار محمود شاہ

حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سربراہ اور موجودہ رکن افرآسیاب خٹک نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس کاروائی کے انسانی پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ ’اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں لیکن ان کی امداد کا کوئی انتظام نہیں ہوا‘۔

’ وانا کے مغرب میں دیہات پر فوج نے قبضہ کیا ہے اور مکانات کی دیکھ بحال کے لئے جو لوگ گھروں میں رہ گۓ ہیں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔‘

قبائلی علاقے میں سیکورٹی کے سیکرٹری محمود شاہ کا جواب میں کہنا تھا کے وانا کے اردگرد صورتحال معمول پر ہے۔
بقول محمود شاہ ’لوگ آزادانہ طور پر آتے جاتے ہیں اور میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ سکول بھی کھلے ہیں‘۔

’ٹارگٹ ایریا سے لوگ ضرور نکلے ہیں لیکن انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے پاس ڈیرے ڈالے ہیں۔ اگر کوئی زخمی ہوا ہے تو ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انہیں مفت طبی امداد فراہم کریں اور جن کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے انہیں معاوضہ دیا جائے گا‘۔

مقامی قبائلیوں نے علاقے میں فوجی کاروائی کے جلد خاتمے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ دوبارہ معمولات زندگی کا سلسلہ بحال کر سکیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد